Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

قومی ایوارڈ یافتہ اساتذہ سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے نتیجے میں بھارت کی شاندار معیشت میں ’’پانچ رتن‘‘ کا اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ کے دفتر کے مطابق بھوپیندر پٹیل نے شہری ترقی، زراعت اور پانی کے انتظام سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ ریاستی حکومت ان شعبوں میں جدید اقدامات پر کام کر رہی ہے اور وزیراعظم سے ملاقات مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے گی۔

جی ایس ٹی اصلاحات میں شہریوں کو صحت اور انشورنس سیکٹر میں بڑی راحت دی گئی ہے۔ سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ ذاتی ہیلتھ اور لائف انشورنس پر جی ایس ٹی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ان پر 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو تھا۔

ریلائنس ریٹیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ صارفین، کسانوں، چھوٹے تاجروں، پیدا کنندگان اور خوردہ فروشوں سمیت پورے ویلیو چین میں شفاف طریقے سے فوائد پہنچائے گی۔

وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مرکزی وزیرجیوترآدتیہ سندھیا کا مضمون پڑھیں تاکہ حکومت کے وسیع وژن کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

اس گفتگو کے دوران تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، اختراع، پائیداری، دفاع، سلامتی اور سپلائی چین کے تحفظ جیسے کلیدی شعبوں میں باہمی تعلقات میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، سنگاپور بھارت کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کے ساتھ دوطرفہ تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کا تقریباً 2.96 فیصد ہے۔ 2014 سے اب تک سنگاپور سے بھارت میں 175 ارب امریکی ڈالر کی مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) آ چکی ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نئے ڈھانچے سے عام آدمی، چھوٹے تاجروں اور MSMEs کو فائدہ ہوگا۔

وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ بھارت اور سنگاپور کے تعلقات محض سفارتی حدود تک محدود نہیں بلکہ ان کا مرکز پورے خطے میں امن، ترقی اور خوش حالی کا مشترکہ وژن ہے۔

وزیر اعظم نے سنگاپور کی کمپنی PSA International کے تعاون سے تیار کیے گئے انڈیا ممبئی کنٹینر ٹرمینل فیز 2 کے افتتاح کو بھی سراہا اور کہا کہ اس منصوبے سے بھارت کی کنٹینر ہینڈلنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔