Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972 کو بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جو 1971 کی جنگ کے بعد امن قائم کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دستخط کیا گیا۔ اسے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستانی صدر ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ میں منظور کیا تھا۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس کی صدارت کی اور کہا کہ وہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ مل کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو واپس لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہندوستان میں بھی دہشت گردی ہوگی تو اس کو پورے خلوص سے مذمت کریں گے لیکن اگر ہمارے خلاف اس طرح کے اقدامات ہوں گے تو ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی عالمی قوانین کے مطابق اس پر ردِ عمل کا اختیار رکھتے ہیں اور اختیار کریں گے۔

آپ کو بتادیں کہ نیوی آفیسر ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر کے مذہب کے بارے میں پوچھ کر دہشت گردوں نے انہیں اس لیے گولی مار دی کہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ اس بیان کے وائرل ہونے کے بعد ملک بھر سے ردعمل آ رہا ہے۔

جموں و کشمیر کی مختلف ضلعی انتظامیہ نے کشمیری پنڈتوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔بارہمولہ کے بعد اب اننت ناگ میں بھی کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیری پنڈت ملازمین کچھ وقت کے لیے گھر سے کام کریں گے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پہلے سے ہی کمزور تجارتی تعلقات کو ایک اور بڑا دھچکا لگنے والا ہے۔ اٹاری چیک پوسٹ کو بند کرنے کے فیصلے سے خاص طور پر چھوٹے تاجر اور صنعتیں متاثر ہوں گی۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس سانحے کو مذہب رنگ دینا غلط ہے۔ مرنے والوں میں نہ صرف ایک مسلمان شامل ہے بلکہ وہاں سے جوخبریں آرہی ہیں ان کے مطابق حملوں کے دوران مقامی لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کربہت سے سیاحوں کو بچایا اورزخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ حملے کے بعد دیرتک وہاں کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی، زخمیوں کواسپتال پہنچانے کے لئے وہاں کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔

پہلگام حملے کے بعد بھارت کے بڑے فیصلے: انڈس واٹر معاہدہ معطل، اٹاری چیک پوسٹ بند، پاکستانی ہائی کمیشن کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم، وکرم مسری نے کیا اعلان

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی یکجہتی اور سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے۔ دتاتریہ ہوسبولے نے اس حملے کو "انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت" قرار دیتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

امیر، جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حسینی نےکہا کہ ہم جنوبی کشمیر کے پہلگام میں منگل کے روزہونے والے بدترین دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے میں بے گناہ جانوں کا جانا، جن میں غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔