Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بھارت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی سطح پر اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدام اٹھایا جائے۔

دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھارتی نیوی کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاتھی نے لیفٹیننٹ ونے نروال کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا بھی اظہارِ تعزیت کے لیے وہاں پہنچیں اور ان کی اہلیہ کو دلاسہ دیتے ہوئے دیکھی گئیں۔ بعد ازاں شہید کا جسد خاکی ہریانہ کے کرنال لے جایا گیا۔

عمر عبداللہ کی جانب سے شیئر کیے گئے خط کے مطابق یہ میٹنگ جمعرات کو سہ پہر 3:00 بجے سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقد کی جائے گی۔

جے ڈی وانس نے پہلگام حملے پر وزیر اعظم سے بات کی ہے اور کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی میں ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

"سعودی عرب کی وزارت خارجہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔"

پرینکا چوپڑا نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا، ’’پہلگام میں جو کچھ ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ لوگ وہاں چھٹیاں، ہنی مون، اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلیبرٹ کرنے آئے تھے۔ وہ صرف کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کئی معصوم جانیں اس طوفان میں پھنس گئیں جس کی انہیں کبھی توقع نہیں تھی۔ اپنے ہی لوگوں کے سامنے انہیں نشانہ بنایا گیا، یہ ایسا واقعہ نہیں ہے جسے ہم بھول کر آگے بڑھ سکیں۔ یہ ہمیں طویل عرصے تک پریشان کرے گا۔

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ اور تشدد پر مبنی کارروائی قرار دیا۔

امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے اپنے بیان میں عوام خواص اور میڈیا سے صبر وتحمل سے کام لینے اور امن وقانون اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خرابی کا سبب والی ہر سرگرمی سے کلی اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے کشمیری شخص کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

پہلگام میں منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم مودی نے وطن واپسی کے فوراً بعد ایک ہنگامی میٹنگ کی، جس میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، خارجہ سکریٹری وکرم مِسری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔