Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan Relation: سفارتی اسٹرائیک سے گھبراہٹ میں پاکستان، پی ایم شہباز نے بلائی قومی سلامتی کی میٹنگ،آرمی چیف بھی ہوں گے شامل

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہندوستان میں بھی دہشت گردی ہوگی تو اس کو پورے خلوص سے مذمت کریں گے لیکن اگر ہمارے خلاف اس طرح کے اقدامات ہوں گے تو ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی عالمی قوانین کے مطابق اس پر ردِ عمل کا اختیار رکھتے ہیں اور اختیار کریں گے۔

پہلگام واقعے پرحکومت ہند کے اقدامات کے بعد اب پاکستانی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا گیا ہے۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق   قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوگا۔وزیر دفاع کا کہنا  تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائےگا۔خواجہ آصف کے مطابق بھارت نے جو ایشو زاٹھائے ہیں وہ میٹنگ میں ڈسکس کریں گے، بھارت سندھ طاس معاہدے کو اس طرح معطل نہیں کرسکتا،  معاہدے میں صرف پاکستان  اور  بھارت شامل نہیں دیگر بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لائیں‘بھارت کے ہر اقدام کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے گا۔وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم بھارتی اقدامات پر فوری رسپانس دینا نہیں چاہتے کیوں کہ یہ مناسب نہیں ہوگا۔ سوچ سمجھ کر رسپانس دینے چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے لیے بارہ پندرہ سال سے پر تول رہا تھا‘ باقی جو ایشوز اٹھائے ہیں وہ یقیناً آج قومی سلامتی کمیٹی میں زیر غور آئیں گے اور اس کا جامع رسپانس حکومت کے طرف سے آئے گا۔ْ

خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے ہندوستان یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے سے نکل نہیں سکتا۔ اس وقت بھی جو دہشت گردی پختونخوا، بلوچستان میں ہے اس کو کون اسپانسر کر رہا ہے اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہندوستان میں بھی دہشت گردی ہوگی تو اس کو پورے خلوص سے مذمت کریں گے لیکن اگر ہمارے خلاف اس طرح کے اقدامات ہوں گے تو ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم بھی عالمی قوانین کے مطابق اس پر ردِ عمل کا اختیار رکھتے ہیں اور اختیار کریں گے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read