Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan

تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وارث پٹھان نے کہا کہ حکومت کو سخت پالیسی اپنانی چاہئے۔ اگر ہم میچ نہیں کھیلیں تو کون سا پہاڑ ٹوٹ جائے گا؟ جب سارے رشتے توڑ دیے ہیں اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر پابندی لگا دی ہے تو ٹورنامنٹ کیوں کھیلنا؟ حکومت کو ہندوستان کے لوگوں کے جذبات کی پرواہ تو ہونا چاہئے۔ پاکستان بار بار غلطی کرتا ہے پھر بھی ہم ان کے ساتھ کھیلتے ہیں، ہم کیا جواب دیں گے ان بہنوں کو، جن کا سندور اجڑ گیا؟

ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجینڈز 2025 سے ایک بڑا اپ ڈیٹ سامنے آیا ہے۔ انڈیا چیمپیئنز نے ٹورنا منٹ سے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ اسی طرح میں پاکستان اب اسٹیڈیم ٹورنا منٹ کے فائنل میں پہنچا۔ ان دونوں ٹیموں کے درمیان 31 کو سیمی فائنل کو چیلنج کرنا جولائی جانا تھا۔

ہریش نے کہا کہ یہ کارروائی سلامتی کونسل کے اس بیان سے متاثر تھا، جس میں پہلگام حملے کے قصورواروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور اسپانسرز کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس آپریشن کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں واقع دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے تقریباً تین ہفتے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مستقبل میں دہشت گردی کی اشتعال انگیزیوں کے خلاف ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے

پاکستان کو پہلے ہی پانی کے بحران کا سامنا ہے اور دریائے سندھ پر بھارت کے اقدام نے اس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب بھارت کا دریائے چناب پر کنٹرول بڑھانے کا منصوبہ پاکستان کے حالات مزید خراب کر سکتا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ 7 مئی کو آپریشن سندور شروع ہونے سے لے کر 10 مئی کو گولی باری اور فوجی کارروائی بند کرنے پر اتفاق قائم ہونے تک ہند- امریکی لیڈران کے درمیان تجارت کا معاملہ ہی نہیں اٹھا۔

ڈپٹی ایس پی پی آر راٹھور نے بتایا کہ دھاری میں ایک مدرسہ چل رہا تھا اور تحقیقات کے دوران مولانا نے مدرسے سے متعلق کوئی دستاویز نہیں دکھائی، جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ مدرسہ ان کا ہے۔ اس کے بعد انتظامیہ نے مدرسہ کو گرانے کا حکم جاری کیا اور اب مدرسہ کو گرانے کی کارروارئی جاری ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اس تنازعے میں اپنے عزیزوں کو کھویا۔ ہم حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرے اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں اور کمیونٹیوں کو پیش آئے معاشی نقصان اور ذرائع روزگار کی تباہی کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

پاکستانی وزیرِاعظم شہبازشریف نے کہا کہ ہم نے واضح کردیا کہ جو ملاقات میزپرہونی تھی، اب میدان جنگ میں ہوگی۔ ہندوستان نے پاکستان کی حرمت کو پامال کرنے کی ناکام کوشش کی، ہندوستان  نے ڈرون حملوں سے پاکستان کے صبرکا امتحان لیا، کوئی ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے تو ہم اپنی سر زمین کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔