Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan

پاکستانی گولی باری میں زخمی ہوئے لوگوں سے جموں میں ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ پاکستان نے عام لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اسے یہ بند کردینا چاہئے۔

ہندوستان-پاکستان سرحد پربڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان کے ڈرون حملے کوہندوستانی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے پُرامن حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔ فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی حل کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہری جان سے ہاتھ دھورہے ہیں۔ ساتھ ہی خواتین اور بچے بے گھر ہورہے ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ 10 سالوں میں آئی ایم ایف سے کئی بیل آؤٹ پیکجز ملے ہیں۔ مثال کے طور پر، فنڈ نے ستمبر 2024 میں 7 بلین ڈالر کے قرض کی منظوری دی، جو برسوں کے دوران تقسیم کیے جائیں گے۔ اس 7 بلین ڈالر میں سے 1 بلین ڈالر پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے مارچ 2025 میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 1.3 بلین ڈالر کے قرض کی منظوری دی۔

پاکستان کو ملنے والے IMF فنڈز کے بارے میں، سکریٹری خارجہ نے الزام لگایا کہ یہ مالی امداد بالواسطہ طور پر پاکستان کو اس کی فوجی انٹیلی جنس کارروائیوں کی مالی معاونت کرنے کے قابل بنا رہی ہے، جس میں لشکر طیبہ (LeT) اور جیش محمد (JeM) جیسے گروپ شامل ہیں۔

اے این آئی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ صورت حال کو بین الاقوامی بنانے کی پاکستان کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں اور اسلام آباد کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ طور پر معاملے کا حل تلاش کرے۔

پی او کے کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ان کی حکومت کی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت لوگوں کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔

سی آئی اے نے 32 سال قبل خبردار کیا تھا کہ ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کو ہوا دے سکتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، جب دہشت گردوں نے پہلگام جیسے پرامن سیاحتی مقام کو نشانہ بنایا،

پہلگام حملے کے بعد سابق پاکستانی کرکٹرز شعیب اختر، شاہد آفریدی، باسط علی اور راشد لطیف سمیت کئی کھلاڑیوں کے یوٹیوب چینلز پر ہندوستان میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

گینگسٹر لارنس بشنوئی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کی دھمکی دیتے ہوئے، سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعہ لشکر طیبہ کے حافظ سعید کو نشانہ بنایا، پاکستان میں داخل ہونے کی تنبیہ کی ہے، جس سے سیکورٹی اداروں میں تشویش کی لہر

عالمی برادری اب اس امید پر نظریں جمائے ہوئے ہے کہ اقوام متحدہ کی مداخلت اور دیگر سفارتی کوششیں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روک سکیں گی۔