Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan

ہندوستانی بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ بحری جہازوں نے طویل فاصلے تک درست حملے کے لیے پلیٹ فارم، نظام اور عملے کی تیاری کی تصدیق اور مظاہرہ کرنے کے لیے متعدد کامیاب اینٹی شپ فائرنگ کی۔

ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران مرکزی حکومت نے کوتاہی کا اعتراف کیاہے۔ ایک اعلیٰ حکومتی رہنما نے اجلاس میں کہا کہ اگر کچھ غلط نہیں ہوا تو ہم یہاں کیوں بیٹھے رہتے۔ کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے جس کا پتہ لگانا چاہیے اور ہم اسے مستقبل کے لیے درست کرنا چاہتے ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان کچھ دنوں کیلئے جنگ  ہوتی  ہے تو بھارت پاکستان پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا، لیکن اگر جنگ زیادہ دیر تک جاری رہی تو پاکستان بھارت کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکے گا۔

سندھو آبی معاہدہ کی منسوخی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے حال ہی میں خون بہانے کی دھمکی دی تھی۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اس معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت کی جانب سے چھوڑے جانے والے پانی کے باعث پاکستان میں مظفرآباد کے علاقے ہٹین بالا میں سیلاب آگیا ہے۔

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارتی حکومت ایکشن موڈ میں ہے۔ دریں اثناء سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ 31 سال قبل پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پی او کے ہندوستان کا حصہ ہے۔

میرٹھ کے محلہ گھوسیان باشندہ پیر الدین کی بیٹی ثنا مشکل میں پھنسی، اس کی شادی پاکستان میں ہوئی تھی اور وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ثنا اپنے 2 بچوں کو لے کر ہندوستان آئی تھی، اسے 45 دنوں کا ویزا ملا تھا جو اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔

2 جولائی 1972 کو ہندوستان کے شہر شملہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس وقت ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور خطے میں دیرپا امن کا قیام تھا۔

دہلی پولیس کو بدھ کی رات دیر گئے ایک کال موصول ہوئی۔ جس میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ اسے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بارے میں پہلے سے جانکاری تھی۔ یہ سن کر پولس حیران رہ گئی۔ جس کے بعد پولیس فوراً حرکت میں آئی اور اس شخص کے پاس پہنچ کر پوچھ گچھ کی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیسٹ پاکستان کی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت نے اسے اپنے خلاف براہ راست خطرہ سمجھا تو جوابی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔