Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack: پہلگام دہشت گردانہ حملے پر آر ایس ایس کا سخت ردعمل– کہا “یہ ملک کی سالمیت پر حملہ ہے، سب کو مل کر مذمت کرنی چاہیے”

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی یکجہتی اور سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے۔ دتاتریہ ہوسبولے نے اس حملے کو “انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت” قرار دیتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

جموں و کشمیر کے پہلگام کے بیسرن وادی میں 22 اپریل 2025 کو پیش آنے والے خوفناک دہشت گرد حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس المناک واقعے میں 27 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں اتر پردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، کرناٹک، تمل ناڈو اور اوڈیشہ کے سیاح شامل ہیں، علاوہ ازیں نیپال اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک ایک سیاح اور دو مقامی شہری بھی اس حملے کا نشانہ بنے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب بیسرن وادی میں بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے۔ اس واقعے کو 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد سب سے بڑا دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ایک بار پھر وادی میں سکیورٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

آر ایس ایس کا بیان

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی یکجہتی اور سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے۔ دتاتریہ ہوسبولے نے اس حملے کو “انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت” قرار دیتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر ایک آواز میں اس حملے کی مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے فوری اور مکمل امدادی اقدامات کرے اور حملے میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

سرکار سے سخت کارروائی کا مطالبہ

آر ایس ایس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے اور متاثرین کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read