Bharat Express DD Free Dish

جمعیۃ علماء ہند نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی، مولانا ارشد مدنی نے کہا- اسلام میں دہشت گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس سانحے کو مذہب رنگ دینا غلط ہے۔ مرنے والوں میں نہ صرف ایک مسلمان شامل ہے بلکہ وہاں سے جوخبریں آرہی ہیں ان کے مطابق حملوں کے دوران مقامی لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کربہت سے سیاحوں کو بچایا اورزخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ حملے کے بعد دیرتک وہاں کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی، زخمیوں کواسپتال پہنچانے کے لئے وہاں کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے جموں وکشمیرکے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ وبزدلانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم مرنے والوں کے لواحقین کے غم میں برابرکے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد ازجلد صحت یابی کے لئے دعاگوہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے قصوروں کو قتل کرنے والے انسان نہیں بلکہ حیوان ہیں۔ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشت گردی ایک ناسورہے، جواسلام کی قیام امن کی پالیسی کے متصادم ہے۔ اس کے خلاف آوازاٹھانا ہرمومن کے لئے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند خاص طورپرمذہب کی بنیاد پرمجرمانہ عمل کو ملک کے لئے اورملک کے امن وامان کے لئے بربادی کاسبب سمجھتی ہے، جہاں دہشت گردوں کے اس گھناؤنے اقدام سے انتہائی تشویش ہورہی ہے۔ وہیں عام کشمیریوں کا اس دہشت گردانہ عمل سے نفرت اوربیزاری کا اظہاربھی ہورہا ہے۔ مسجدوں سے اس طرح کی کارروائی سے بیزاری کا اعلان یہ بتا رہا ہے کہ کشمیرکا عام مسلمان کشمیرمیں امن وامان کو فروغ دینا چاہتا ہے اوراس کے دل میں مذہب سے اوپراٹھ کراخوت وہمدردی اوربھائی چارگی کا جذبہ طاقتوراورزندہ ہے۔ یہ چیزبتارہی ہے کہ امن وامان کوقائم رکھنے میں حکومت کوکشمیریوں کا پوراتعاون حاصل ہوگا۔

پہلگام دہشت گردانہ حملہ کو مذہبی رنگ دینا مناسب نہیں 

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس سانحے کومذہب رنگ دینا غلط ہے۔ مرنے والوں میں نہ صرف ایک مسلمان شامل ہے بلکہ وہاں سے جوخبریں آرہی ہیں ان کے مطابق حملوں کے دوران مقامی لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کربہت سے سیاحوں کو بچایا اورزخمیوں کواسپتال پہنچایا۔ حملے کے بعد دیرتک وہاں کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی، زخمیوں کواسپتال پہنچانے کے لئے وہاں کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔ ایسے میں مقامی لوگ اپنے گھروں سے باہرنکلے اورمتعدد ایسے لوگوں کی جانیں بچائیں جوحملوں کی زد پرتھے اوراپنی جان کوخطرے میں ڈال کر زخمیوں کوقریبی اسپتال پہنچایا۔ اس طرح انہوں نے انسانیت کی ایک مثال پیش کی اورایسا کرتے ہوئے انہوں نے کسی سے اس کا مذہب نہیں پوچھا۔ اس سانحہ سے عام کشمیری سخت صدمے اورغصے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری شہریوں نے اپنی ناراضگی اورغم وغصے کا اظہارجگہ جگہ کینڈل مارچ نکال کرکیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عام کشمیری ریاست میں امن، اتحاد اور ترقی چاہتے ہیں اور کسی بھی طرح کی انتہا پسندی کو پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ میڈیا کو یک رخی اور جانبدارانہ رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ موقع منافرت کو بڑھاوا دینے کا نہیں بلکہ مل بیٹھ کر یہ سوچنے کا ہے کہ کراہتی ہوئی انسانیت کے زخموں پرکس طرح مرہم رکھا جائے اوراخوت، محبت اوربھائی چارے کوعام کیا جائے۔ اخیرمیں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس واقعہ کے گنہگاروں کوانصاف کے کٹہرے میں لاکرسخت سخت سے سزا دی جائے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read