Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam Terror Attack

انڈین مسلمس  فار سول رائٹس کے مرکزی دفتر میں پہلگام مہلوکین کے لئے تعزیتی نشست کا اہتمام، مہلوکین کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی۔  مختلف اہم تنظیموں سے جڑی اہم شخصیات نے پہلگام حملے کی ایک آواز ہوکر مذمت کی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے دونوں ایئر لائنز نے بتایا کہ پرواز کے راستوں میں تبدیلی کی وجہ سے کچھ بین الاقوامی پروازوں کا نظام الاوقات ہو سکتا ہے متاثر۔

جمعرات کو سری نگر میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرنے والی ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر نے کہا کہ وادی سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلباء کے لیے صورت حال دن بدن سنگین اور گہری تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

وزارتِ خارجہ (MEA) نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، اٹلی، قطر، جاپان، چین، روس، جرمنی، فرانس سمیت 20 ممالک کے سینیئر سفارتکاروں کو مدعو کیا۔ خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے ان سفیروں کو تقریباً 30 منٹ تک جاری رہنے والی ایک میٹنگ میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اورسوگ کے اظہار کے طورپریہ احتجاجی مہم تین دن کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف تحفظ مہم کے تحت ملک گیر سطح پر جو مظاہرے اور عوامی اجتماعات جاری تھے، ان پر23 اپریل سے تین دنوں کے لئے مکمل روک لگا دی گئی ہے۔

اپوزیشن کی طرف سے راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے، سنجے سنگھ، رام گوپال یادو، سدیپ بندوپادھیائے اور اسد الدین اویسی جیسے سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔

ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر مکیش امبانی نے جمعرات کو پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 26 معصوم جانوں کے نقصان پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور قوم کے غم میں شامل ہوئے۔

جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں منگل کے روز ہونے والے دہشت گرد حملے کی جس میں کم از کم 26 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، دنیا بھر سے اہم لیڈروں نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اپنے رنج وغم کا اظہار کیا ۔ عالمی رہنماؤں نے اس بربریت کو “غیر انسانی” اور “سفاکانہ” قرار دیتے ہوئے بھارت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا۔

22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ حملے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر تقریباً 90 فیصد بکنگس منسوخ کر دی گئی ہیں۔