تصویر: پی ٹی آئی
جمعرات کو سری نگر میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرنے والی ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں اس حملے کو ’’کشمیری اقدار اور ہندوستان کے نظریہ پر براہ راست حملہ‘‘ قرار دیا گیا۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دوسری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں سے یہ درخواست بھی کہ وہ پہلگام حملے کے تناظر میں اپنی ریاستوں میں موجود کشمیریوں کو کسی بھی طرح کی ہراسانی کے خلاف تحفظ فراہم کریں۔
عمر عبداللہ نے کہا ’’ہم، جموں و کشمیر کے آل پارٹی میٹنگ کے شرکاء، 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں معصوم شہریوں پر حالیہ وحشیانہ حملے سے شدید صدمے اور غم زدہ ہیں اور اجتماعی یکجہتی کے جذبے کے ساتھ اس قرارداد کو منظور کرتے ہیں۔ ہم پہلگام میں ہونے والے گھناؤنے، غیر انسانی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کیا گیا۔‘‘
اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں: عمر عبداللہ
انھوں نے مزید کہا کہ ’’پرامن شہریوں کے خلاف اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ کشمیری اقدار اور ہندوستان کے تصور پر براہ راست حملہ ہے جو طویل عرصے سے خطے میں اتحاد، امن اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔‘‘ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام جماعتیں ان قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتی ہیں اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہ ایسا کرتے ہوئے، ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی ہمارے عزم کو کبھی کمزور نہیں کر سکتی اور نہ ہی ہمارے ناقابل تسخیر جذبے کو ختم کر سکتی ہے۔ ہم کل مرکزی حکومت کے اعلان کردہ اقدامات کی بھی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے تمام رہنماؤں کی جانب سے دہشت گردی کے حملے سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
سیاحوں کو بچانے کی کوشش میں جاں گنوانے والے عادل حیسن کی بہادری کو پیش کیا گیا سلام
اس قرارداد میں کشمیری باشندے سید عادل حسین شاہ کی قربانی کو بھی سلام پیش کیا گیا جنھوں نے پہلگام میں سیاحوں کو بچانے کی کوشش میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان گنوا دی۔ عمر عبداللہ نے کہا ’’ان کی بہادری اور بے لوثی ہمیشہ سب کے لیے مشعل راہ رہے گی۔ وہ کشمیریت اور کشمیری مہمان نوازی کا حقیقی چہرہ ہیں۔‘‘ قرارداد میں کشمیر کے لوگوں کی وادی بھر میں موجود تمام سیاحوں کی اخلاقی اور مادی حمایت کے لیے بھی تعریف کی گئی۔
قرار داد میں کی گئہ ہے ملک کے دوسرے علاقوں میں موجود کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپیل
دریں اثنا پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک بھر میں کشمیری طلباء اور شہریوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کا ذکر کرتے ہوئے قرارداد میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ’’کشمیری طلباء اور شہریوں کی حفاظت کے لیے غیر متزلزل عزم کے ساتھ آگے آئیں۔‘‘ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’وہافراد، جو خواہ جموں و کشمیر سے باہر سفر کر رہے ہوں یا وہاں رہائش پذیر ہوں، انھیں ہراساں کیے جانے، امتیازی سلوک یا دھمکیوں کے خلاف تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘‘
یہ آل پارٹی میٹنگ ایس کے آئی سی سی، سری نگر میں منعقد ہوئی اور اس کی صدارت جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کی۔ سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد نے کانگریس، پی ڈی پی، بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ اس میٹنگ میں شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں قائدین نے دہشت گردی کے حملے میں جانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


