Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

لوک سبھا میں پہلگام اورآپریشن سندورپربحث میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ 190 ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے ایک بار پھرپاکستان کوسخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب ایٹمی دھمکیاں نہیں چلے گی۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پربحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپریشن سندورکی وزیردفاع کی تقریرسن رہا تھا۔ انہوں نے وقت بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور22 منٹ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد ہم نے پاکستان کوبتایا کہ ہم نے فوجی ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ وزیر دفاع کے الفاظ ہونے چاہئیں؟ یہ کیسی قوت ارادی ہے؟ اس حکومت میں لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔

آپریشن سندورپربحث کے دوران پارلیمنٹ میں ایک لمحہ ایسا آیا، جب جے پی نڈا کو معافی مانگنی پڑی۔ سینئر رکن پارلیمنٹ اور کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کے بولنے کے بعد جے پی نڈا بولنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ وزیراعظم مودی کے لئے کھڑگے کے استعمال کردہ الفاظ پرسوال اٹھا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ مچ ہوگیا۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آج دوسرے دن بھی آپریشن سندورپربحث ہورہی ہے۔ اس دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت کوگھیرا۔ تاہم، جب انہوں نے پہلگام میں مارے گئے لوگوں کوہندوستانی قراردیا تولوک سبھا میں حکمراں جماعت کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔

سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم پرتنقید کرتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کربہت افسوس ہوا کہ کل اس ملک کے سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟

ہندوستانی فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے ایک مشترکہ آپریشن مہادیو میں پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کی جانکاری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں دی۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران اس آپریشن کے لیے ہندوستان کو ملی بین الاقوامی حمایت اور ہمدردی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سفارتی کوششوں نے دنیا کو اس کارروائی کی ضرورت اور جواز کو سمجھانے میں مدد کی۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو ایک بار پھر واضح کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

لوک سبھا میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سے سوال پوچھتے پوچھتے ملک سے سوال پوچھنے لگے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ راجناتھ سنگھ جی بہت سینئر لیڈر ہیں اور ہمیں امید تھی کہ کم از کم وہ کچھ مدعوں پر جواب دیں گے، لیکن، ایک بھی مدعے پر بات نہیں ہوئی۔

اسدالدین اویسی نے کہا، "کیا آپ (حکومت) نے چین سے پوچھا کہ اس نے پاکستان کو ہتھیار کیوں دیے؟ کیا چین نے ہمیں جنگ بندی کرنے کا کہا؟ پاکستان نے ہمارے پائلٹس کی بات کیسے سنی؟ اور اگر پاکستان سے جنگ بندی ہوئی تو اعلان امریکی صدر کرنے والا کون ہوتا ہے۔