Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو ایک بار پھر واضح کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

لوک سبھا میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سے سوال پوچھتے پوچھتے ملک سے سوال پوچھنے لگے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ راجناتھ سنگھ جی بہت سینئر لیڈر ہیں اور ہمیں امید تھی کہ کم از کم وہ کچھ مدعوں پر جواب دیں گے، لیکن، ایک بھی مدعے پر بات نہیں ہوئی۔

اسدالدین اویسی نے کہا، "کیا آپ (حکومت) نے چین سے پوچھا کہ اس نے پاکستان کو ہتھیار کیوں دیے؟ کیا چین نے ہمیں جنگ بندی کرنے کا کہا؟ پاکستان نے ہمارے پائلٹس کی بات کیسے سنی؟ اور اگر پاکستان سے جنگ بندی ہوئی تو اعلان امریکی صدر کرنے والا کون ہوتا ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے لیے پاکستان کی دیرینہ حمایت کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔

جے شنکر نے کسی بھی قسم کی ثالثی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی پہل پاکستان نے کی تھی۔ ہم نے صاف کہا تھا کہ اگر پاکستان جنگ روکنا چاہتا ہے تو اس کا ڈی جی ایم او ہمارے ڈی جی ایم او سے بات کرے۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ اقوام متحدہ نے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے ہفتے میں ہونے والی رکاوٹوں کے بعد دوپہر سے پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر پارلیمنٹ میں گرماگرم بحث جاری ہے۔

یہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ ان ہفتوں میں انہوں نے کیا کیا ہے۔ کیا انہوں نے دہشت گردوں کی شناخت کی ہے؟ یا یہ معلوم کیا ہے کہ وہ کہاں سے آئے تھے؟ کیا پتا، وہ ملک کے ہی دہشت گرد ہوں۔

آپریشن سندور 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا جواب تھا، جس میں خاص طور پر سیاحوں سمیت 26 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق، یہ بحث تقریباً 16 گھنٹے تک چلے گی اور اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی مداخلت کا بھی امکان ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اس مہم کی حکمت عملی، کامیابی اور اس کے پیچھے بھارت کی فوجی صلاحیتوں پر روشنی ڈالیں گے۔

اسی دوران انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تنازع کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس تنازع کو کامیابی کے ساتھ اس معاملے کو حل کیا تھا۔