وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے آج لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران واضح کیا کہ ہندوستان پاکستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی پر اپنی صفر رواداری کی پالیسی پر قائم ہے۔ انھوں نے آپریشن سندور کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی بھی ثالثی یا فون کال کی بھی تردید کی۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 22 اپریل سے 17 جون تک کوئی فون کال نہیں ہوئی ۔‘‘ واضح رہے کہ ہندوستان نے 7 مئی کو پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد براہ راست جوابی کارروائی کے لیے آپریشن سندور شروع کیا تھا۔ اسلام آباد کے ڈرون اور میزائل حملے ہندوستان کے اس آپریشن کو روکنے میں ناکام رہے تھے اور ہندوستان نے کامیابی کے ساتھ کئی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جس کے بعد پاکستان نے بھی جوابی حملے کیے۔ یہ چار روزہ لڑائی اس وقت ختم ہوئی جب پاکستان کے ڈی جی ایم او نے ہندوستان کے ڈی جی ایم او سے جنگ بندی کی درخواست کی۔
سفارتی دباؤ اور مستقبل کی کارروائی
جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے لیے پاکستان کی دیرینہ حمایت کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے عالمی رہنماؤں کو دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس بتائی ہے۔ ہمیں دفاع کا حق حاصل ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ بھارت کی سفارتی مہم نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔
جے شنکر نے خبردار کیا کہ آپریشن سندور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کا آخری جواب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم اپنے شہریوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری اقدام ہوگا، وہ کریں گے۔‘‘ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں ہندوستان کے انسداد دہشت گردی کے وسیع تر اقدامات کے حصے کے طور پر برقرار رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

