United Nations General Assembly: دوستی اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتی، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے جے شنکر کا دوٹوک پیغام
وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرے گا۔ ان کے بیان کو 2025 میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ دہشت گردی کو معمول پر لانے اور اس کے نتائج سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
PM Modi’s visit to Indonesia: وزیراعظم مودی کا دورہ انڈونیشیا ،برہموس اور ’استر‘ میزائلوں سے لے کر سبانگ بندرگاہ اور معدنی سرمایہ کاری تک کئی اہم معاہدوں کی توقع
ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت انڈونیشیا میں اسٹیل، نکل اور ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹس کی تیاری کے شعبے میں سرمایہ کاری پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔وزیراعظم مودی نے اپنے دورے کے دوران انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی کی،
Amit Shah Interacts With BSF Personnel In Bikaner: سنہ 1965 کی جنگ میں سانچو سیکٹر سے پیٹھ دکھا کر بھاگا تھا پاکستان: بیکانیر میں بھارت۔پاکستان سرحد سے بی ایس ایف جوانوں سے امت شاہ کا خطاب
وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی ایس ایف کے قیام کے بعد سے سرحدی محافظوں نے شدید گرمی، سخت سردی اور دشوار گزار علاقوں میں ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف سے ڈھکے پہاڑوں سے لے کر صحرائی علاقوں تک، جہاں درجہ حرارت منفی 45 ڈگری سے لے کر 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، وہاں بھی جوان پوری مستعدی کے ساتھ تعینات رہتے ہیں۔
Amit Shah Pays Tributes To Indian Army: آپریشن سندور کی پہلی برسی: وزیر داخلہ امت شاہ نے بھارتی فوج کے بہادر شہیدوں کو پیش کیا خراج عقیدت، کہا- دشمن کہیں بھی چھپ جائے بچ نہیں سکتا
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پہلگام میں شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو بھارت نے ایسا جواب دیا جس نے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دے دیا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ”آپریشن سندور“ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ملک کے وقار، سلامتی اور عوامی اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔
Operation Sindoor: آپریشن سندور کی پہلی برسی پر وزیراعظم مودی نے ایکس کی ڈی پی تبدیل کی، پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ’آپریشن سندور‘ کو خراج
آپریشن سندور، پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے جواب میں بھارت نے سخت فوجی کارروائی کی تھی۔ بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
Operation Sindoor: ’’آپریشن سندور دشمنوں کو بھارت کی ناقابل شکست طاقت کی یاد دلاتا رہے گا‘‘ امت شاہ کا آپریشن سندور کی پہلی برسی پر مسلح افواج کو خراج تحسین
ھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی چار دن تک جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ آپریشن سندور کو بھارت کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی، عسکری تیاری اور مربوط کارروائی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Op Sindoor anniversary: آپریشن سندور کی پہلی برسی پر وزیراعظم نریندر مودی کا مسلح افواج کو خراج تحسین، دہشت گردی کے خلاف مضبوط عزم کا اعادہ
وزیراعظم نے مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مشترکہ کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
Epicentre of International Terrorism: ’’آپریشن سندور بھارت نے اپنی شرائط پر روکا‘‘ قومی سلامتی سمٹ میں وزیردفاع کا دہشت گردی کی جڑوں کو ختم کرنے پر زور
وزیر دفاع نے پاکستان کو عالمی دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے نظریاتی اور سیاسی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اس کے ’’نظریاتی اور سیاسی سرپرستی‘‘ کو ختم کرنا ضروری ہے۔
Operation Sindoor: ’’دہشت گردی کو اب کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا، دہشتستان کے خاتمے تک جاری رہے گا آپریشن سندور‘‘: اندریش کمار
’’نہ بھولیں گے، نہ چھوڑیں گے‘‘ پہلگام کی برسی پر دہشت گردی کے خلاف مسلم راشٹریہ منچ کا شدید غصہ، اندریش کمار نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کوئی عارضی قدم نہیں بلکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہنے والا مشن ہے۔
Donald Trump On India-Pakistan Conflict: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ- ’’آپریشن سندور میں میری مداخلت نہ ہوتی تو پاکستان کے وزیر اعظم کی موت ہو جاتی‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے اب تک دنیا کے آٹھ بڑے جنگی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ممکنہ جوہری جنگ میں مداخلت نہ کرتے، تو تین کروڑ افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی موت ہو جاتی‘‘۔





