Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد آگے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کھلی حمایت کے بعد انتخابی ماحول نیتن یاہو کے حق میں بدلا

پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی مدت کے لیے گردشی صدارت سنبھالی تھی۔ پاکستان نے بشکیک میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد یہ ذمہ داری کرغزستان سے حاصل کی تھی۔شنگھائی تعاون تنظیم کے 10 رکن ممالک میں بیلاروس، چین، بھارت، ایران، قزاقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

آپریشن سندور کے حوالے سے ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ نے 1200 کلومیٹر چوڑائی اور 200 کلومیٹر گہرائی تک درست حملے کرکے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی ہدف اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرے گا۔ ان کے بیان کو 2025 میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ دہشت گردی کو معمول پر لانے اور اس کے نتائج سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت انڈونیشیا میں اسٹیل، نکل اور ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹس کی تیاری کے شعبے میں سرمایہ کاری پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔وزیراعظم مودی نے اپنے دورے کے دوران انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی کی،

وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی ایس ایف کے قیام کے بعد سے سرحدی محافظوں نے شدید گرمی، سخت سردی اور دشوار گزار علاقوں میں ملک کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف سے ڈھکے پہاڑوں سے لے کر صحرائی علاقوں تک، جہاں درجہ حرارت منفی 45 ڈگری سے لے کر 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، وہاں بھی جوان پوری مستعدی کے ساتھ تعینات رہتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پہلگام میں شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو بھارت نے ایسا جواب دیا جس نے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دے دیا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ”آپریشن سندور“ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ملک کے وقار، سلامتی اور عوامی اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔

 آپریشن سندور، پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے جواب میں بھارت نے سخت فوجی کارروائی کی تھی۔ بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی کشیدگی چار دن تک جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ آپریشن سندور کو بھارت کی دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی، عسکری تیاری اور مربوط کارروائی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مشترکہ کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔