Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خطرے سے متعلق سوال پر واضح کیا ہے کہ بھارت ہر صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کسی ایک واقعے یا آپریشن سے جڑا ہوا نہیں بلکہ یہ ملک کی طویل مدتی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دیویدی نے 13 جنوری 2026 کو اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے سخت موقف اپنایا اور کہا کہ آپریشن سندور ابھی جاری ہے اور کسی بھی غلط قدم پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی فوج ہر لمحہ تیار ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ جنوری 2026 میں اڈیشہ کی پاروتی گری کی یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریبات منائی جائیں گی۔ انہوں نے کم عمری میں بھارت چھوڑو تحریک‘ میں حصہ لیا اور آزادی کے بعد اپنی زندگی سماجی خدمت اور قبائلی فلاح کے لیے وقف کر دی۔

’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے کانگریس لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوان کے بیان نے سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے آپریشن اور 12 لاکھ فوجیوں پر سوال اٹھایا، جس پر بی جے پی شدید برہم ہو گئی ہے۔

بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے کہا کہ بھارتی بحریہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے عالمی سمندری سلامتی، سمندری لٹیرے کے خلاف کارروائی اور ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے جیسی کامیابیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

پاکستان اس وقت شدید خوف اور بے یقینی کے ماحول میں جی رہا ہے، جہاں خود پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف بار بار بھارت کے ممکنہ حملے کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہلی اور جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے بعد پاکستانی وزیر دفاع کے بیانات مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان مکمل الرٹ پر ہے۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے رفال طیارے کی فروخت روکنے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ فرضی تصاویر وائرل کیں، تاکہ اپنے جے-35 لڑاکا طیارے کو فروخت کیا جاسکے۔

امریکی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ آپریشن کے دوران بھارت کے رافیل طیارے کے گرنے کی خبر محض چینی پروپیگنڈا تھی۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں بھارت۔پاکستان تکرار کے دوران پاکستان کی فوجی کامیابی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو ایک فون کال اور تجارتی معاہدے کی وارننگ سے روک دیا تھا۔

حکومت ہند نے آپریشن سندور سمیت مختلف مہمات میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے تینوں افواج کے 127 جوانوں کو بہادری کے اعزازات اور 40 جوانوں کو نمایاں خدمات پر اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔