وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خطرے سے متعلق سوال پر واضح کیا ہے کہ بھارت ہر صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کسی ایک واقعے یا آپریشن سے جڑا ہوا نہیں بلکہ یہ ملک کی طویل مدتی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا اولین مقصد مسلح افواج کو ہر لحاظ سے مضبوط بنانا ہے تاکہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ اس سال مرکزی حکومت نے دفاعی شعبے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا بجٹ پیش کیا ہے۔ مجموعی طور پر 7.85 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ ہیں۔ جدید کاری کے لیے 1.85 لاکھ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جو 25 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تینوں افواج کے لیے 2.20 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے، جس میں سے 75 فیصد رقم گھریلو دفاعی صنعت کو فراہم کی جائے گی تاکہ ’آتم نربھر بھارت‘ کے ہدف کو تقویت مل سکے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیرِ اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ ’آپریشن سندور‘ کے تناظر میں کیا گیا ہے؟ کیا یہ ہمسایہ ممالک پر عدم اعتماد کی علامت ہے اور پاکستان کے ساتھ جنگ کا خطرہ کس حد تک حقیقی ہے؟ اس پر مودی نے کہا کہ حکومت کے پہلے دن سے ہی دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کی پالیسی واضح رہی ہے اور بجٹ میں اضافہ کسی ایک آپریشن یا واقعے کا ردعمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی ایک مسلسل عمل ہے اور اسے وقتی حالات سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق، ”ہمیں اپنی افواج کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہو، وہ کرنا ہوگا۔ تیاری ہی امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے“۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ بھارت امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح مستعد رہنا بھی ضروری ہے۔
وزیرِ اعظم نے ’آپریشن سندور‘ کو مسلح افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی نمایاں مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق اس آپریشن میں فوجیوں نے غیر معمولی جرات اور عزم کا مظاہرہ کیا، جس سے ملک کا سر فخر سے بلند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں دفاعی اصلاحات، جدید ہتھیاروں کی شمولیت، بہتر حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے افواج کو زیادہ مؤثر اور مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کا تصور صرف سرحدی دفاع تک محدود نہیں بلکہ سائبر سکیورٹی، خلائی دفاع اور انٹیلی جنس نظام کی مضبوطی بھی اس کا حصہ ہیں۔ اسی لیے حکومت دفاعی ڈھانچے کی ہمہ جہت ترقی پر توجہ دے رہی ہے تاکہ مستقبل کے خطرات سے نمٹا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے ون رینک ون پنشن (او آر او پی) اسکیم کے نفاذ کو بھی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق چار دہائیوں سے زیرِ التوا اس مطالبے کو پورا کر کے حکومت نے سابق فوجیوں کے وقار اور خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ صرف ساز و سامان تک محدود نہیں بلکہ فوجیوں اور سابق فوجیوں کی فلاح بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ مجموعی طور پر وزیرِ اعظم کا پیغام واضح تھا کہ بھارت امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے، مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول، بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے پیشِ نظر ملک کو ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار رہنا ہوگا تاکہ کسی بھی خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
