Bharat Express DD Free Dish

budget 2026

وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خطرے سے متعلق سوال پر واضح کیا ہے کہ بھارت ہر صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کسی ایک واقعے یا آپریشن سے جڑا ہوا نہیں بلکہ یہ ملک کی طویل مدتی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج نے کہا کہ اس بجٹ میں کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات بھی اس میں نظر نہیں آتی۔

پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران ایک بار پھر سیاسی ہنگامہ آرائی نے ایوان کی کارروائی کو متاثر کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث وزیر اعظم مودی کا خطاب نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب راجیہ سبھا میں بھی منی پور اور نفرت کے مبینہ پھیلاؤ کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا، جس سے ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کے بعد لوک سبھا کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن کی سخت سرزنش بھی کی۔ اس طرح پارلیمنٹ کا آدھا دن ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے چوتھے دن صدر جمہوریہ کے خطاب پراظہارتشکرتجویزپربحث ہورہی ہے۔ اس درمیان اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ڈوکلام کا موضوع بھی اٹھایا ہے۔ اس دوران ایوان میں جم کرہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

مرکزی بجٹ 2026 پر سابق وزیر خزانہ پی۔ چدمبرم نے حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے جی ڈی پی، ایف ڈی آئی، ایم ایس ایم ای، بے روزگاری اور مالیاتی خسارے سے جڑے 10 بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اپنے بجٹ خطاب میں کہا کہ یکم اپریل سے نافذ ہونے والے نئے انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت اگر کسی کی آمدنی میں کوئی بے قاعدگی پائی جاتی ہے یا نادانستہ طور پر ٹیکس چھپایا جاتا ہے تو سزا کے بجائے صرف جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے یکم فروری کو مرکزی بجٹ پیش کر دیا۔ اس بجٹ میں کئی شعبوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بجٹ میں نہ کسانوں کے لیے کوئی بڑی راحت سامنے آئی اور نہ ہی سرمایہ کاروں کو کوئی خاص فائدہ ملا۔ مجموعی طور پر اس بجٹ میں چار ایسے اہم سیکٹر رہے، جن کے ہاتھ خالی رہ گئے۔