سابق مرکزی وزیر خزانہ اور کانگریس لیڈر پی۔ چدمبرم نے مرکزی بجٹ 2026-27 پر طنز کستے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے اس بجٹ کو عوامی امنگوں سے بالاتر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے تبصرہ کرنے والے ہر مبصر، تحریرکردہ اور معاشیات کے طالب علم آج پارلیمنٹ میں وزیرخزانہ کی تقریر سن کر یقیناً حیران و ششدر رہ گئے ہوں گے۔
بجٹ پر اٹھائے گئے سنگین سوالات
پی۔ چدمبرم نے کہا،“میرا ماننا ہے کہ بجٹ محض سالانہ آمدنی اور اخراجات کا ایک بیان نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات میں بجٹ تقریر کو اُن بڑے چیلنجز پر ایک واضح نقطۂ نظر پیش کرنا چاہیے تھا جن کا ذکر چند دن پہلے جاری کیے گئے اقتصادی سروے26-2025 میں کیا گیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ حکومت اور وزیرِ خزانہ نے اقتصادی سروے پڑھا بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر پڑھا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپنے پسندیدہ مشغلے، یعنی عوام پر الفاظ کی بارش کرنے، کی طرف لوٹ آئے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ وہ کم از کم ایسے 10 بڑے چیلنجز گنوا سکتے ہیں جن کی نشاندہی اقتصادی سروے اور کئی ماہرین نے کی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے تعزیری ٹیرف، جنہوں نے صنعت کاروں، خاص طور پر برآمد کنندگان، پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔طویل عرصے سے جاری تجارتی تنازعات، جو سرمایہ کاری پر بوجھ ڈالیں گے۔ چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ۔ مجموعی مستحکم سرمایہ جاتی تشکیل (تقریباً 30 فیصد) کی کم سطح اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ۔ بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے بہاؤ کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال اور گزشتہ کئی مہینوں سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (FPI) کا مسلسل اخراج۔
تعلیم، روزگار اور MSME پر کیا کہا؟
سابق وزیر خزانہ نے کہا، “مالیاتی استحکام کی رفتار انتہائی سست ہے اور ایف آر بی ایم کے برخلاف مالیاتی خسارہ اور آمدنی خسارہ مسلسل بلند سطح پر ہیں۔ سرکاری طور پر اعلان کردہ مہنگائی کے اعداد و شمار اور گھریلو اخراجات—تعلیم، صحت اور نقل و حمل کے حقیقی بلوں—کے درمیان مستقل فرق موجود ہے۔ لاکھوں ایم ایس ایم ای بند ہو چکے ہیں اور جو بچے ہیں وہ اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ روزگار کی صورتحال غیر مستحکم ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری تشویشناک ہے۔ بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور شہری علاقوں (میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنز) میں بگڑتا ہوا بنیادی ڈھانچہ۔”
جی ڈی پی پر پی۔ چدمبرم کا موقف
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان میں سے کسی بھی مسئلے کو وزیر خزانہ کی تقریر میں شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق، اگر اکاؤنٹنٹ کے معیار سے بھی دیکھا جائے تو26-2025 میں مالیاتی نظم و نسق انتہائی ناقص رہا۔ آمدنی کی وصولی 78,086 کروڑ روپے کم رہی، مجموعی اخراجات 1,00,503 کروڑ روپے کم رہے۔ آمدنی اخراجات 75,168 کروڑ روپے کم ہوئے اور سرمایہ جاتی اخراجات میں 1,44,376 کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی (مرکز 25,335 کروڑ روپے اور ریاستیں 1,19,041 کروڑ روپے)۔ اس خراب کارکردگی کی وضاحت کے لیے ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔ دراصل، مرکز کا سرمایہ جاتی خرچ25 -2024 میں جی ڈی پی کے 3.2 فیصد سے گھٹ کر 2025-26 میں 3.1 فیصد رہ گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

