Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’آپریشن سندور اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اب صرف مذمت نہیں کرتا بلکہ دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتا ہے۔‘‘

انھوں نے گزشتہ 11 سالوں میں این ڈی اے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہم نے 60 کروڑ غریب افراد کو مکانات، بیت الخلا، گیس، بجلی اور مفت راشن فراہم کیا ہے۔

کانگریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے، جو اسے پاک-بھارت تنازع میں غیر ضروری مداخلت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن سے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ پہلے بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی، حالانکہ بھارت نے ان کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جب کہ پاکستان نے انہیں کریڈٹ دیتے ہوئے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا ہے۔

آپریشن سندور میں ہندوستانی مقامی نظام بمقابلہ چینی نظام کی آزمائش تھی، وارفیئر کے ماہر جان اسپینسر نے کہا ہے کہ ہندوستان نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ نپے تلے اور باہمت انداز میں ردعمل دینے کی قوت بھی رکھتا ہے۔

این ایس اے اجیت ڈوول نے کہاکہ  ہمیں اپنی دیسی ٹیکنالوجی تیار کرنی ہوگی۔ یہاں آپریشن سندور کا ذکر کیا گیا۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اس میں کتنا دیسی مواد تھا... ہم نے پاکستان بھر میں 9 دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا، یہ سرحدی علاقوں میں نہیں تھے۔

فرانسیسی فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ بند ڈس انفارمیشن مہم اس وقت شروع کی گئی جب ہندوستان نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے خلاف رافیل طیاروں کا استعمال کیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانچ ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا۔

دنیا میں جنگ کی موجودہ صورتحال پر گڈکری نے ہندوستان کو بدھ کی سرزمین بتاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سچائی، عدم تشدد اور امن کا پیامبر رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بھارت عالمی فورمز پر امن اور ہم آہنگی کی کوششوں کی قیادت کرے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ریو ڈی جنیریو میں اپنے گرمجوشی بھرے استقبال کے لیے برازیل میں سکونت پذیر بھارتی برادری کی ستائش کی۔ پی ایم  مودی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ کس طرح بھارتی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں اور بھارت کی ترقی کے تئیں بھی جذباتی ہیں۔

وزیر اعظم مودی 6 اور 7 جولائی کو ریو ڈی جنیرو میں برِکس سمٹ میں شرکت کریں گے، اور اس کے بعد برازیلیا کا تاریخی دو طرفہ دورہ کریں گے — جو تقریباً 60 سال میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے۔