Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

پاکستانی فوجی حکام کے مطابق 16 سے 23 جولائی تک سینٹرل سیکٹر کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رہے گی۔ اسی طرح 22 اور 23 جولائی کو جنوبی پاکستان کی ایئر اسپیس بھی بند کر دی گئی ہے۔

جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ ہمارا آبادیاتی فائدہ پوری دنیا کے لیے حسد کا باعث ہے۔ ہماری 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے۔ بھارت کی اوسط عمر 28 سال ہے، جب کہ چین اور امریکہ کی 38-39، اور جاپان کی 48 سال ہے۔

جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے پاکستان کودہشت گردی کے حوالے سے سخت وارننگ دی ہے۔ انڈس واٹرٹریٹی کی معطلی کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کواس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ منوج سنہا نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پردہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’آپریشن سندور اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اب صرف مذمت نہیں کرتا بلکہ دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتا ہے۔‘‘

انھوں نے گزشتہ 11 سالوں میں این ڈی اے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ہم نے 60 کروڑ غریب افراد کو مکانات، بیت الخلا، گیس، بجلی اور مفت راشن فراہم کیا ہے۔

کانگریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے، جو اسے پاک-بھارت تنازع میں غیر ضروری مداخلت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن سے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ پہلے بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی، حالانکہ بھارت نے ان کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جب کہ پاکستان نے انہیں کریڈٹ دیتے ہوئے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا ہے۔

آپریشن سندور میں ہندوستانی مقامی نظام بمقابلہ چینی نظام کی آزمائش تھی، وارفیئر کے ماہر جان اسپینسر نے کہا ہے کہ ہندوستان نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ نپے تلے اور باہمت انداز میں ردعمل دینے کی قوت بھی رکھتا ہے۔

این ایس اے اجیت ڈوول نے کہاکہ  ہمیں اپنی دیسی ٹیکنالوجی تیار کرنی ہوگی۔ یہاں آپریشن سندور کا ذکر کیا گیا۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اس میں کتنا دیسی مواد تھا... ہم نے پاکستان بھر میں 9 دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا، یہ سرحدی علاقوں میں نہیں تھے۔

فرانسیسی فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ بند ڈس انفارمیشن مہم اس وقت شروع کی گئی جب ہندوستان نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے خلاف رافیل طیاروں کا استعمال کیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانچ ہندوستانی طیاروں کو مار گرایا۔