Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

ماڈیولز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کی سرکاری تردید کے باوجود، پہلگام حملہ براہِ راست پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت کے احکامات پر کیا گیا۔ بھارت کی جوابی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے مواد میں لکھا گیا ہے:

فاکس بزنس کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں روبیو نے بھارت-پاکستان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسا صدر ہے، جس نے امن کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔

دشمن پر جوابی حملہ کرے گا اور ساتھ ہی دشمن کے حملے کو ناکام بنائے گا — وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک "سودرشن چکر مشن" لانچ کرنے جا رہا ہے۔ یہ سودرشن چکر ایک طاقتور ہتھیار کا نظام ہوگا

انہوں نے حالیہ دنوں میں پہاڑی علاقوں میں آنے والی قدرتی آفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا:"مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر امدادی و بچاؤ آپریشنز چلا رہی ہیں۔"

وزیرِاعظم مودی نے کہا:"22 تاریخ کے بعد، ہم نے اپنی مسلح افواج کو مکمل آزادی دی کہ وہ خود اپنی حکمت عملی، مقصد اور وقت طے کریں۔ ہماری افواج نے وہ حاصل کیا جو کئی دہائیوں سے ممکن نہ ہو سکا تھا۔"

دروپدی مرمو نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے سازگار حالات ملے ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے دور رس تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تعلیم کو زندگی کی اقدار سے اور ہنر کو روایت سے جوڑا گیا ہے۔ روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا، "امریکہ نے عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے میں پاکستان کی کامیابی کی تعریف کی۔

حالیہ برسوں میں بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، باہمی تعاون موجودہ ڈھانچوں سے آگے بڑھ کر نئے شعبوں میں بھی وسعت اختیار کر چکا ہے، جس سے دوطرفہ اور عالمی سطح پر نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ ملاقات دو فوجی پیشہ وروں کی ایک اہم ملاقات تھی، جن کا مشترکہ ماضی بھارت-آسٹریلیا دفاعی تعلقات کی بنیاد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

جنرل دویدی نے خصوصی طور پر حالیہ فوجی کارروائی ’’آپریشن سندور‘‘ کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس میں حکومت نے فوج کو مکمل آزادی دی۔

پی ایم مودی نے کہا کہ آپریشن سندور کی وجہ سے پوری دنیا نے ہندوستان کی طاقت دیکھی اور ہم نے پاکستان کے اندر کئی کلومیٹر اندر گھس کر دہشت گردوں کو مارا۔