Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’ہندستان ہمارا وطن ہے، اس کا دفاع ہماری قومی اورآئینی ذمہ داری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ حب الوطنی، امن اوراتحاد کا پیغام دیا ہے اورآج جبکہ ہماری سرحدوں پرخطرہ منڈلا رہا ہے، ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہاکہ یہ بھی حیران کن ہے کہ شہریوں کو ان کے تابوتوں کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اور سرکاری اعزازات کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایک نماز جنازہ کی تصویر دکھائی جس میں پاک افواج بھی شامل تھیں۔

پاکستان کے بہاولپور میں جیش محمد کے سربراہ اور بدنام زمانہ دہشت گرد رؤف اصغر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد، ہندوستانی مسلح افواج نے، ایک سخت جوابی کارروائی میں، منگل (6-7 مئی) کی دیر رات پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، جس میں 100 دہشت گرد مارے گئے۔

امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں۔ یہاں موجود تمام امریکی شہریوں کو پناہ میں جانے کی ہدایت جاری کی جارہی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی تینوں افواج نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے متعدد مقامات پر میزائل حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے اڈے تباہ کئے تھے جس میں قریب 100دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا گیا۔

امرتسر کے کتھونگل علاقے کے جٹھوال گاؤں میں تیز دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی افراد نے آسمان میں تیز روشنی دیکھی، جس کے بعد کھیتوں میں دھات کے ٹکڑے ملے۔ سیکیورٹی فورسز اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبہ قبضے میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ کسی میزائل یا پروجیکٹائل کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

ڈرون پاکستان کے جوہری مقام پرپہنچ گیا ہے۔ ایک کے بعد ایک دھماکے نے لاہور اورکراچی میں خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں اب تک 25 ڈرون دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ڈرون حملے کے بعد پاکستان کے سیکورٹی سسٹم پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے میں جان گنوانے والے آندھرا پردیش کے نیلاپور کے مدھوسودن راؤ کی اہلیہ کماکشی پرسنا نے ’آپریشن سندور‘ کے لئے وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے ہمارا بدلہ لے لیا۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس کے دوران زور دیا کہ وزارتوں اور ایجنسیوں کے درمیان بے رکاوٹ رابطہ ضروری ہے تاکہ آپریشنل تسلسل اور ادارہ جاتی لچک کو برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وزارتوں کی منصوبہ بندی اور تیاریوں پر تفصیلی جائزہ بھی لیا۔