Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

جموں میں ڈرون حملے کے بعد سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب، سرحد پار سے کشمیر کے کپواڑہ میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بناکر بھی گولہ باری کی جار ہی ہے۔

آپریشن سندور کی کامیابی پر شری سدھی ونائک مندر میں آج صبح 8:30 بجے سے 9:30 بجے تک خصوصی پوجا اور آرتی کا ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کیا گیا۔

برازیل کے صدر نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا بھی اظہار کرتے ہوئے اس بزدلانہ حملے کی مذمت کی۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’ہندستان ہمارا وطن ہے، اس کا دفاع ہماری قومی اورآئینی ذمہ داری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ حب الوطنی، امن اوراتحاد کا پیغام دیا ہے اورآج جبکہ ہماری سرحدوں پرخطرہ منڈلا رہا ہے، ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہاکہ یہ بھی حیران کن ہے کہ شہریوں کو ان کے تابوتوں کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اور سرکاری اعزازات کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایک نماز جنازہ کی تصویر دکھائی جس میں پاک افواج بھی شامل تھیں۔

پاکستان کے بہاولپور میں جیش محمد کے سربراہ اور بدنام زمانہ دہشت گرد رؤف اصغر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد، ہندوستانی مسلح افواج نے، ایک سخت جوابی کارروائی میں، منگل (6-7 مئی) کی دیر رات پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، جس میں 100 دہشت گرد مارے گئے۔

امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس میں انہوں نے کہا کہ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ڈرون حملوں کی اطلاعات ہیں۔ یہاں موجود تمام امریکی شہریوں کو پناہ میں جانے کی ہدایت جاری کی جارہی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی تینوں افواج نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے متعدد مقامات پر میزائل حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے اڈے تباہ کئے تھے جس میں قریب 100دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا گیا۔

امرتسر کے کتھونگل علاقے کے جٹھوال گاؤں میں تیز دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی افراد نے آسمان میں تیز روشنی دیکھی، جس کے بعد کھیتوں میں دھات کے ٹکڑے ملے۔ سیکیورٹی فورسز اور فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ملبہ قبضے میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ کسی میزائل یا پروجیکٹائل کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔