آپریشن سندور
آپریشن سندور کی باضابطہ معلومات لوگوں تک پہنچانے والی کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کا ہر گھر میں چرچا ہے۔ لوگ ان خواتین فوجی افسران کے اب تک کے متاثر کن کیریئر کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کی تھی۔کرنل صوفیہ جنہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے پہلگام حملے کی جوابی کارروائی کی تفصیلات بتائی تھیں، کا تذکرہ سپریم کورٹ نے 17 فروری 2020 کو دیئے گئے ایک تاریخی فیصلے میں کیا تھا۔ اس فیصلے میں عدالت نے میرٹ کی بنیاد پر خواتین فوجی افسران کو مستقل کمیشن اور قیادت کے عہدے دینے کا راستہ صاف کر دیا تھا۔ اس فیصلے کا فوری اثر 1653 خواتین افسران نے محسوس کیاتھا۔
سپریم کورٹ کے اس وقت کے ججز جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور اجے رستوگی کے اس فیصلے میں فوج میں خواتین کو زیادہ مواقع دینے کی وکالت کرتے ہوئے کئی خواتین افسران کی کامیابیوں پر بات کی گئی تھی۔ فوج کی عزت میں اضافہ کرنے والی خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ججز نے سب سے پہلے کرنل صوفیہ کے بارے میں بات کی تھی۔فیصلے میں لکھا گیا کہ صوفیہ نے 2006 میں افریقی ملک کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں ہندوستانی فوج کے دستے کی قیادت کی تھی۔ وہاں انہوں نے جنگ بندی کی نگرانی اور لوگوں کو انسانی امداد پہنچانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ انہوں نے 2016 میں کثیر القومی فوجی مشق ‘ایکسرسائز فورس 18’ میں ہندوستانی دستے کی قیادت کی۔
بھارتی فوج نے آپریشن سندور کیا
آپ کو بتادیں کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد، ہندوستانی مسلح افواج نے، ایک سخت جوابی کارروائی میں، منگل (6-7 مئی) کی دیر رات پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، جس میں 100 دہشت گرد مارے گئے۔اور9 دہشت گردی کے اڈے تباہ کردئے گئے ۔ اس آپریشن سندور کی تفصیلات عوام کوبتانے کیلئے جن دو خواتین فوجی افسران کو آگے کیا گیا تھا ،ان میں ایک نام صوفیہ قریشی کا ہے ،جن کے بارے میں آج ہر طرف بات ہورہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

