Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

ترنمول کانگریس (TMC) کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے انہیں بیرونِ ملک سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ اہم شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔

دراصل 9 اگست کو مغربی بنگال کے ہلیشہر میں مبینہ طور پر پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے ٹی ایم سی کارکن کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے پہنچیں سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔مقامی لوگوں نے ممتا بنرجی کی گاڑی کو راستے میں روک دیا۔ گاڑی کے رکنے کے دوران احتجاج جاری رہا۔ مظاہرین نے ممتا بنرجی کی گاڑی پر کیچڑ لگایا، جوتے اور چپل پھینکے اور مبینہ طور پر نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے۔

ممتا بنرجی کے ساتھ لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور راجیہ سبھا کی رکن ڈولا سین بھی موجود تھیں۔ احتجاج کے بعد دونوں رہنماؤں نے انتظامیہ کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا۔ کلیان بنرجی نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور مافیا کے ذریعے کام کروایا جارہا ہے۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور سوچیں کہ کیا بنگال اپنی شناخت کھو دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی نے کئی وعدے کیے تھے، لیکن اب ان پر کوئی عمل نظر نہیں آتا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پولیس کا احترام کرتی ہیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ بعض اہلکاروں کو سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔  انہوں نے کہا ’’مجھے کہا جا رہا ہے کہ یا تو دوسرے گروپ میں شامل ہو جاؤ یا پھر جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ کیا یہی پولیس کا کام ہے؟‘‘

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی 27 جولائی کو نئی دہلی میں نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جاری احتجاج میں شرکت کریں گی۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے کہا کہ یہ ملک اپنے طلبہ، کسانوں، خواتین، مزدوروں اور ہر شہری کا ہے۔ اختلافِ رائے کوئی جرم نہیں اور نہ ہی سختی اور تشدد کو بہتر حکمرانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے۔ممتا بنرجی نے سی جے پی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں

ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑکرآج مجھے بھلا برا کہہ رہے ہیں، یا مجھ پرالزام لگا رہے ہیں، انہیں میں چیلنج دیتا ہوں کہ دیدی کے پاس واپس آجائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میں ایک گھنٹے کے اندرپارٹی سے استعفیٰ دے دوں گا، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔

کوئل ملک نے 6 اپریل 2026 کو مغربی بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ انہیں ترنمول کانگریس نے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا، لیکن ان کا اچانک استعفیٰ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اورٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمیں زبردستی ہرایا گیا۔ ایک دن یہ ثابت ہوجائے گا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اگرمیں نے سمجھوتہ کیا ہوتا تو ہمیں یہ سب نہیں جھیلنا پڑتا، لیکن میں اپنا ضمیر نہیں بیچتی۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی مرکز کے اقتدار سے باہر ہوگی تو یہی خوف اس کے زوال کا سبب بنے گا۔

مدن مترا نے اے آئی ٹی سی سے استعفیٰ دے کر رتبرتا بنرجی کی قیادت والے باغی دھڑے کا دامن تھام لیا ہے جو ممتابنرجی گروپ کے لیے ایک بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ مدن مترا نے ابھیشیک بنرجی پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔