Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی ) ایک گہرے بحران سے دوچار نظر آ رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کے قریبی اور بااعتماد رہنما کلیان بنرجی نے ابھشیک بنرجی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے تک کی وارننگ دے دی ہے، جس کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

باغی ارکان کے حوالے سے مہوا موئترا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کے پاس 20 ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہیں، تب بھی انہیں حاصل کیا ہوگا؟ وہ صرف الگ نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق مغربی بنگال پولیس کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) کی سربراہی میں ایس آئی ٹی اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ اب تک سی آئی ڈی 13 ٹی ایم سی اراکین اسمبلی کے بیانات ریکارڈ کر چکی ہے۔ حکام نے بتایا کہ تین اراکین اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ 6 مئی کی میٹنگ ریزولوشن بک میں موجود دستخط ان کے نہیں ہیں۔

مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یوسف پٹھان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ضلع کے لوگوں نے آپ کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا ہے، تھوڑی شرم کریں اور کچھ ہمت بھی دکھائیں۔‘‘

دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد (INDIA Bloc) کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اتحاد کے رہنما اب ہر دو ماہ بعد باقاعدہ اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اتحاد کی اگلی میٹنگ حیدرآباد میں ہوگی۔پانچ نکات پر اتفاق ہوا۔

سیاسی حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ ترنمول کانگریس کے دو راجیہ سبھا اراکین استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ان ناموں میں شکھیندو شیکھر رائے کے علاوہ اداکارہ اور حال ہی میں راجیہ سبھا پہنچی کوئل ملک کا نام بھی شامل تھا۔

کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور سی پی آئی (ایم) کے سینئر  لیڈرپنارائی وجین کے نام سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’راہل گاندھی قومی سطح کے لیڈر ہیں، لیکن ان میں اتنی سیاسی سمجھ بھی نہیں جتنی کانگریس کے ایک عام مقامی کارکن میں ہوتی ہے۔

کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے ’انڈیا‘ بلاک کے اجلاس کو اپوزیشن کی یکجہتی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب اتحاد میں شامل جماعتیں مرکزی حکومت کے خلاف اپنے تعاون اور باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور رہنماؤں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اقلیتی سیل کے ریاستی سکریٹری محمد اجمل صدیقی نے ہفتے کے روز پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفی دے دیا۔