Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یوسف پٹھان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ضلع کے لوگوں نے آپ کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا ہے، تھوڑی شرم کریں اور کچھ ہمت بھی دکھائیں۔‘‘

دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد (INDIA Bloc) کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ اتحاد کے رہنما اب ہر دو ماہ بعد باقاعدہ اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اتحاد کی اگلی میٹنگ حیدرآباد میں ہوگی۔پانچ نکات پر اتفاق ہوا۔

سیاسی حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ ترنمول کانگریس کے دو راجیہ سبھا اراکین استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ان ناموں میں شکھیندو شیکھر رائے کے علاوہ اداکارہ اور حال ہی میں راجیہ سبھا پہنچی کوئل ملک کا نام بھی شامل تھا۔

کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور سی پی آئی (ایم) کے سینئر  لیڈرپنارائی وجین کے نام سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’راہل گاندھی قومی سطح کے لیڈر ہیں، لیکن ان میں اتنی سیاسی سمجھ بھی نہیں جتنی کانگریس کے ایک عام مقامی کارکن میں ہوتی ہے۔

کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے ’انڈیا‘ بلاک کے اجلاس کو اپوزیشن کی یکجہتی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب اتحاد میں شامل جماعتیں مرکزی حکومت کے خلاف اپنے تعاون اور باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور رہنماؤں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اقلیتی سیل کے ریاستی سکریٹری محمد اجمل صدیقی نے ہفتے کے روز پارٹی کے تمام عہدوں اور بنیادی رکنیت سے استعفی دے دیا۔

جیسے جیسے ملک میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے قومی دارالحکومت نئی دہلی کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں کی نظریں آنے والی اہم حکمتِ عملی میٹنگز پر مرکوز ہیں۔ اسی سلسلے میں 8 جون کو کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ہونے والی انڈیا بلاک کی …

اسمبلی انتخابات کے بعد مغربی بنگال کی سیاست گرم ہوگئی ہے۔ ہمایوں کبیرنے اپنی جیت یقینی بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ممتا بنرجی کو ریجی نگرسے ضمنی انتخاب لڑنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی ایم سی کے 20 ممبران پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے خلاف بغاوت کے لئے تیارہیں۔ ہمایوں کبیرنے ٹی ایم سی قیادت پرتنقید کرتے ہوئے ممتا بنرجی کوریاستی سیاست کی اہم شخصیت قراردیا۔

فرہاد حکیم نے میئر کے عہدے سے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی، جسے پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے منظور کر لیا ہے۔ حکیم نے پہلے بھی استعفیٰ دینے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم اس وقت انہیں اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے کہا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے دوبارہ ممتا بنرجی سے اجازت طلب کی، جس کے بعد ان کی درخواست قبول کر لی گئی۔