Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مغربی بنگال پہنچے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو دیدی ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے ایک جنگجو کی طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی سے اکھلیش یادو کی میٹنگ سیاسی لحاظ سے بے حد اہم مانی جا رہی ہے۔ کیونکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر پھر سے غور کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال میں انتخابی عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، کمزور طبقات کوحق رائے دہی سے محروم کئے جانے اورسرکاری مشینری کے غلط استعمال کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیزبیانیے نے سماج کے جمہوری ماحول کوخراب کیا اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ جس طرح کا ماحول بنایا گیا، وہ شفاف جمہوری عمل نہیں تھا۔ ان کے مطابق ”ہم شکست تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ جو کچھ ہوا وہ عوامی فیصلے کی عکاسی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے“۔

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔

بنگال میں بی جے پی کی پہلی بار حکومت بننے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے سب سے مضبوط قلعہ پرقبضہ کیا ہے۔ یہ جیت بی جے پی کے لئے صرف ایک ریاست کی جیت نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے ایک بڑے خواب کو بھی مکمل کیا ہے۔ بی جے پی نے تقریباً 200 سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح سے ممتا بنرجی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے۔

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بارے میں سنگین الزامات لگائے ہیں، جن میں 100 سیٹوں پر ووٹوں میں دھاندلی اورای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت کا قتل‘‘ قراردیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی کے لئے فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔