Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

ای ڈی کی لگاتار کارروائیوں نے مغربی بنگال کی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ سابق وزیر، سینئر پولیس افسر اور راشن گھوٹالے سے جڑے لیڈروں پر کارروائی کے بعد ٹی ایم سی کے اندر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔

ممتا بنرجی جمعرات کو کولکاتا ہائی کورٹ میں وکیل کے طور پر پیش ہوئیں۔ انہوں نے اسمبلی انتخابات کے بعد مبینہ تشدد سے متعلق دائر عوامی مفاد کی عرضی میں دلائل پیش کیے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پوسٹ میں اشوک پنڈت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی اور ان کے حامی مبینہ طور پر ”اینٹی انڈیا سلیپر سیل“ عناصر کے ساتھ مل کر سرگرم ہو گئے ہیں، جس کے باعث ریاست میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے “اباؤٹ“ سیکشن میں اب بھی انہیں ”فاؤنڈر چیئرپرسن آل انڈیا ترنمول کانگریس“ اور ”وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال“ کے طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ممتا بنرجی انتخابی نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے عوام نے بی جے پی سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہیں اور پارٹی پوری ذمہ داری کے ساتھ ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ”سونار بنگلہ“ کے خواب کو حقیقت میں بدلیں اور ریاست کو ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہ پر لے جائیں۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو نے تمل ناڈو کے کارگزار وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن اورمغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ کی تصاویرشیئر کی ہیں۔ اس کے ساتھ کافی دلچسپ کیپشن بھی دیا ہے۔

مغربی بنگال پہنچے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو دیدی ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے ایک جنگجو کی طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی سے اکھلیش یادو کی میٹنگ سیاسی لحاظ سے بے حد اہم مانی جا رہی ہے۔ کیونکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر پھر سے غور کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔