Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک دن قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے مالدا ضلع میں ایک سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درجنوں مقامی لیڈروں کے خلاف شکنجہ کس دیا ہے۔

سُدھانشو ترویدی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے بار بار آئینی اداروں پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں اور اس سے سیاسی و اخلاقی دونوں سطحوں پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

متابنرجی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کر کے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور یہ نتائج 4 مئی کو واضح ہو جائیں گے۔

ایگزٹ پول کے بعد سیاسی بیانات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حتمی تصویر 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہوگی، جب یہ طے ہوگا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اقتدار کس کا قبضہ ہوگا۔

شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔

مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے اس بار اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ جہاں ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں، وہیں بی جے پی ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اب تمام نگاہیں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا کہ آیا ایگزٹ پولس کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں اور مغربی بنگال میں اقتدار کس کے ہاتھ آتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پول کے نتائج شام 6:30 بجے کے بعد ہی جاری کیے جا سکیں گے، کیونکہ اس سے قبل ان کی اشاعت پر پابندی عائد ہے۔ حتمی نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ایگزٹ پولز کو انتخابی نتائج کی ابتدائی تصویر سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے کیونکہ یہ محدود نمونوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں اور انتخابی ماحول کا رخ متعین کرتے ہیں۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ مخالف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جان بوجھ کر حالات کو خراب کر رہی ہے تاکہ ووٹنگ کے عمل کو متاثر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا مقصد واضح ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر انتخابات میں برتری حاصل کرنا چاہتی ہے،

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی 110 سیٹوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ سی اے اے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا، دراندازی کو روکا جائے گا۔ ساتھ ہی بنگال میں بابری مسجد بھی نہیں بننے دیں گے۔

امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔