Bengal NIA Action TMC Summon: بنگال میں کاؤنٹنگ سے قبل این آئی اے کا بڑا ایکشن، ٹی ایم سی کے 52 لیڈر گرفتار، سیاسی درجۂ حرارت عروج پر
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک دن قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے مالدا ضلع میں ایک سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درجنوں مقامی لیڈروں کے خلاف شکنجہ کس دیا ہے۔
Supreme Court: بنگال انتخابات کی گنتی کو لے کر پرسپریم کورٹ کے فیصلے پر بی جے پی کا پہلا ردعمل
سُدھانشو ترویدی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے بار بار آئینی اداروں پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں اور اس سے سیاسی و اخلاقی دونوں سطحوں پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
Mamata Banerjee Dismisses Exit Polls: ’’بی جے پی دفتر سے جاری کیے گئے ہیں بنگال کے رجحان‘‘ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ایگزٹ پول کو کیا پوری طرح مسترد
متابنرجی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کر کے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور یہ نتائج 4 مئی کو واضح ہو جائیں گے۔
Bengal Elections: ’’وزیراعظم مودی کی قیادت میں، بنگال میں بنے گی ڈبل انجن سرکار، ممتا حکومت کو بے دخل کرے گی عوام‘‘ ایگزٹ پول کے بعد این ڈی اے لیڈر پُراعتماد
ایگزٹ پول کے بعد سیاسی بیانات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حتمی تصویر 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہوگی، جب یہ طے ہوگا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اقتدار کس کا قبضہ ہوگا۔
West Bengal Exit Poll: مغربی بنگال ایگزٹ پول: بنگال میں ممتا بنرجی کی واپسی کے آثار، ٹی ایم سی کو 159 سیٹوں کی برتری کا امکان
شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔
West Bengal Exit Polls: مغربی بنگال میں بی جے پی کو واضح اکثریت ملنے کا امکان، مختلف ایگزٹ پول میں بڑا دعویٰ
مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے اس بار اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ جہاں ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں، وہیں بی جے پی ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اب تمام نگاہیں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا کہ آیا ایگزٹ پولس کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں اور مغربی بنگال میں اقتدار کس کے ہاتھ آتا ہے۔
BJP Vs TMC: مغربی بنگال میں ایگزٹ پول سے پہلے سیاسی معرکہ عروج پر، بی جے پی یا ٹی ایم سی میں کس کا پلڑا ہوگا بھاری؟
الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پول کے نتائج شام 6:30 بجے کے بعد ہی جاری کیے جا سکیں گے، کیونکہ اس سے قبل ان کی اشاعت پر پابندی عائد ہے۔ حتمی نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ایگزٹ پولز کو انتخابی نتائج کی ابتدائی تصویر سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے کیونکہ یہ محدود نمونوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں اور انتخابی ماحول کا رخ متعین کرتے ہیں۔
West Bengal Election 2026: بی جے پی انتخابات میں دھاندلی کرانا چاہتی ہے: ممتا بنرجی کا سنگین الزام
ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ مخالف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جان بوجھ کر حالات کو خراب کر رہی ہے تاکہ ووٹنگ کے عمل کو متاثر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا مقصد واضح ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر انتخابات میں برتری حاصل کرنا چاہتی ہے،
Amit Shah on Babri Masjid Row in Bengal: ’’بی جے پی کا ایک بھی کارکن جب تک زندہ ہے، بنگال میں بابری مسجد نہیں بننے دیں گے…‘‘ امت شاہ کا سنسنی خیز بیان
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی 110 سیٹوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ سی اے اے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا، دراندازی کو روکا جائے گا۔ ساتھ ہی بنگال میں بابری مسجد بھی نہیں بننے دیں گے۔
Amit Shah hits back over Mamata: وزیراعلیٰ ممتابنرجی کے ذریعہ قانونی کارروائی کی دھمکی پر وزیرداخلہ امت شاہ کا سخت ردعمل
امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔





