Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

انتخابی نتائج کے بعد ایک بار پھر بھوانی پور سیٹ ریاستی سیاست کا مرکز بن گئی ہے۔ ممتا بنرجی اسی حلقے سے رکن اسمبلی رہی ہیں اور یہ سیٹ طویل عرصے سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس حلقے میں دوسرے مرحلے کے تحت 29 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے نتائج کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس دوران ٹی ایم سی نے الیکشن کمیشن پر بڑا الزام لگایا ہے۔ ممتا بنرجی خود اور ان کی پارٹی نے الیکشن کمیشن پر جان بوجھ کر جانکاری نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

مغربی بنگال کے انتخابی ابتدائی رجحانات میں بڑا سیاسی تبدیلی کا منظر سامنے آ رہا ہے۔ بی جے پی اکثریت کے اعداد و شمار سے آگے بڑھت برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ٹی ایم سی دوسرے نمبر پر ہے۔ بھوانی پور سیٹ پر ممتا بنرجی پیچھے چل رہی ہیں۔

مغربی بنگال کے اسمبلی الیکشن کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ابتدائی رجحان سے بی جے پی کو بڑا فائدہ ہو رہا ہے اور وہ اپنے دم پر حکومت بناتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ یہ رجحان ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی کے لئے کافی حیران کن ہیں۔ ممتا بنرجی گزشتہ 15 سالوں سے وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھال رہی تھیں۔

مغربی بنگال اسمبلی الیکشن 2026 کے نتائج جلد ہی سامنے آئیں گے۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ریاست میں 2021 کے اسمبلی الیکشن میں کس پارٹی کو کتنی سیٹیں ملی تھیں۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ختم ہونے کو ہے، جہاں پیر 4 مئی کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور دوپہر تک سیاسی منظرنامہ کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک دن قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے مالدا ضلع میں ایک سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درجنوں مقامی لیڈروں کے خلاف شکنجہ کس دیا ہے۔

سُدھانشو ترویدی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے بار بار آئینی اداروں پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں اور اس سے سیاسی و اخلاقی دونوں سطحوں پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

متابنرجی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کر کے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور یہ نتائج 4 مئی کو واضح ہو جائیں گے۔