Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

ایگزٹ پول کے بعد سیاسی بیانات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حتمی تصویر 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہوگی، جب یہ طے ہوگا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اقتدار کس کا قبضہ ہوگا۔

شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔

مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے اس بار اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مانا جا رہا ہے۔ جہاں ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں، وہیں بی جے پی ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اب تمام نگاہیں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا کہ آیا ایگزٹ پولس کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں اور مغربی بنگال میں اقتدار کس کے ہاتھ آتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پول کے نتائج شام 6:30 بجے کے بعد ہی جاری کیے جا سکیں گے، کیونکہ اس سے قبل ان کی اشاعت پر پابندی عائد ہے۔ حتمی نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ایگزٹ پولز کو انتخابی نتائج کی ابتدائی تصویر سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے کیونکہ یہ محدود نمونوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں اور انتخابی ماحول کا رخ متعین کرتے ہیں۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ مخالف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جان بوجھ کر حالات کو خراب کر رہی ہے تاکہ ووٹنگ کے عمل کو متاثر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا مقصد واضح ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر انتخابات میں برتری حاصل کرنا چاہتی ہے،

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی 110 سیٹوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ سی اے اے کو تیزی سے نافذ کیا جائے گا، دراندازی کو روکا جائے گا۔ ساتھ ہی بنگال میں بابری مسجد بھی نہیں بننے دیں گے۔

امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو طے ہے۔ انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول کافی گرم ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی جارحانہ مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف ٹی ایم سی بھی اپنے دفاع میں سرگرم ہے۔ 

وزیرداخلہ نے جمعہ کو آرام باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے مبینہ ’’غنڈوں‘‘ کو سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں دیدی کے غنڈوں کو خبردار کرتا ہوں کہ 29 تاریخ کو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر عوام کو تنگ کیا گیا تو 5 مئی کے بعد انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔‘‘

وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بڑا سیاسی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے داخلی اندازوں کے مطابق پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔