Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو طے ہے۔ انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول کافی گرم ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی جارحانہ مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف ٹی ایم سی بھی اپنے دفاع میں سرگرم ہے۔ 

وزیرداخلہ نے جمعہ کو آرام باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے مبینہ ’’غنڈوں‘‘ کو سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں دیدی کے غنڈوں کو خبردار کرتا ہوں کہ 29 تاریخ کو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر عوام کو تنگ کیا گیا تو 5 مئی کے بعد انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔‘‘

وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد بڑا سیاسی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے داخلی اندازوں کے مطابق پہلے مرحلے کی 152 نشستوں میں سے بی جے پی 110 سے زیادہ سیٹیں جیت سکتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ماتوا اور نامشودر برادریوں کو یقین دلایا کہ انہیں کسی قسم کے خوف کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بننے کے بعد شہریت دینے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

مشرقی مدنی پور کے نندی گرام علاقے کے بیرولیا میں بھی ایک ای وی ایم کے خراب ہونے کی خبر سامنے آئی، جس سے کچھ وقت کے لیے ووٹنگ متاثر رہی۔ کوچ بہار میں ٹاؤن ہائی اسکول کے بوتھ نمبر 229 پر تقریباً ایک گھنٹے تک پولنگ معطل رہی،

وزیر اعظم  مودی نے خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین ووٹروں پر زور دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے تمل اور انگریزی زبان میں پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہری جمہوریت کے اس مقدس فریضے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ووٹنگ کے عمل کو کامیاب بنائیں۔

مغربی بنگال میں 23 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ اس مرحلے میں تقریباً 3.6 کروڑ ووٹرز 16 اضلاع کے لگ بھگ 44 ہزار پولنگ مراکز پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ اس بار بنگال میں انتخابات صرف دو مرحلوں میں ہو رہے ہیں، جبکہ 2021 میں آٹھ اور 2016 میں چھ مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔

مغربی بنگال میں 16 اضلاع کی 152 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشستیں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں اور ریاست بھر میں انتخابی ماحول اپنے عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی، اور نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔