Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے شہر سلی گڑی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کہا کہ اگر کوئی مغربی بنگال کا اصل مزاج دیکھنا چاہتا ہے تو اسے سلی گڑی ضرور آنا چاہیے، کیونکہ یہاں کے عوام کے دل و دماغ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے زبردست حمایت نظر آ رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انتخابات کے دوران مغربی بنگال کا رخ کرتے ہیں، جبکہ قدرتی آفات یا سیلاب کے وقت نظر نہیں آتے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ ’’موسمی پرندے" کی طرح صرف ووٹ مانگنے آتے ہیں۔

اپنے بیان میں روپالی گنگولی نے کہا کہ وہ روزانہ درگا ماتا سے پرارتھنا کرتی ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو اور ریاست میں مثبت تبدیلی آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں عام لوگوں، خاص طور پر ہندو خاندانوں کو مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام سرکاری ملازمین کو مہنگائی بھتہ فراہم کیا جائے گا اور 45 دن کے اندر ساتواں پے کمیشن نافذ کر دیا جائے گا تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور 4 مئی کے بعد بنگال ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

بھوانی پور حلقہ سیاسی طور پر نہایت اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ یہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے سینئر رہنما سویندو ادھیکاری سے متوقع ہے۔ سویندو ادھیکاری نے 2021 کے اسمبلی انتخابات میں نندی گرام سیٹ پر ممتا بنرجی کو شکست دی تھی، جس کے بعد انہوں نے بھوانی پور سے ضمنی انتخاب لڑ کر اسمبلی میں واپسی کی تھی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کوچ بہار کی ریلی عوام کے بدلتے ہوئے مزاج کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹی ایم سی کے دور حکومت میں سنڈیکیٹ راج اور بدعنوانی کا خوف ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ترقی اور شفاف حکمرانی کا وعدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لوگوں کو اپنی جائیداد اور کاروبار کے تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کا سیاسی استعمال ہو رہا ہے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔