Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ جس افسر کی ذمہ داری ان کی سکیورٹی دیکھنا ہے، اسی کے گھر پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مجھے ختم کر کے بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟“ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہنچا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے عین بیچ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) نے اچانک ریاست میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایم سی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو بھی خاصا گرم کر دیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس دہائیوں سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی، لیکن وہ ایسے معاملات پر کسی سے لیکچر سننے کو تیار نہیں جنہیں حکمراں جماعت نہ سمجھتی ہے اور نہ ہی ان کا احترام کرتی ہے۔

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

ممتابنرجی نے بی جے پی کو ’’بنگال مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست کے لوگوں کو دیگر بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مشکلات اور توہین کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی بنگال کی زبان، ثقافت، طرزِ زندگی اور تنوع کو ختم کرکے یکسانیت مسلط کرنا چاہتی ہے۔

ممتا بنرجی نے آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر قسم کی تفرقہ انگیزی کو مسترد کریں اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے خاص طور پر اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ترنمول کانگریس کے انتخابی نشان ’’جورا پھول‘‘ کے حق میں ووٹ دے کر پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے شہر سلی گڑی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کہا کہ اگر کوئی مغربی بنگال کا اصل مزاج دیکھنا چاہتا ہے تو اسے سلی گڑی ضرور آنا چاہیے، کیونکہ یہاں کے عوام کے دل و دماغ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے زبردست حمایت نظر آ رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انتخابات کے دوران مغربی بنگال کا رخ کرتے ہیں، جبکہ قدرتی آفات یا سیلاب کے وقت نظر نہیں آتے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ ’’موسمی پرندے" کی طرح صرف ووٹ مانگنے آتے ہیں۔