Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مغربی بنگال میں مجوزہ اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اسی دوران راجیہ سبھا انتخابات نے بھی ریاست کی سیاست میں نئی گہما گہمی پیدا کر دی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارچ تا اپریل 2026 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے اپریل میں راجیہ سبھا کی پانچ سیٹوں پر انتخابات ہوں گے، جس میں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی براہ راست آمنے سامنے ہوں گی۔

دو روزہ دورے کے دوران مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ تنظیمی اجلاسوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ پروگراموں پر خصوصی زور دیں گے۔ اس مرتبہ ان کا فوکس اندرونی تنظیمی سرگرمیوں کے مقابلے میں عوامی اجتماعات اور پارٹی کارکنوں سے براہ راست گفتگو پر زیادہ رہے گا

ممتا بنرجی نے کہا کہ آج صبح مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے طیارہ حادثے میں موت کی خبر سن کر مجھے گہرا صدمہ ہوا۔ اس ملک میں عام لوگوں کی تو بات چھوڑیں، سیاستدان بھی محفوظ نہیں ہیں۔ دو دن قبل مجھے معلوم ہوا تھا کہ کسی دوسری پارٹی کے کسی لیڈر نے بیان دیا تھا کہ پوار بی جے پی چھوڑنے کو تیار تھے اور اب آج یہ ہو گیا۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادونے کولکاتا میں بی جے پی پرسخت حملہ کیا۔ انہوں نے ای ڈی تنازعہ میں ممتا بنرجی کی حمایت کی اوربی جے پی پرپین ڈرائیومعاملے میں سوال اٹھایا۔ اکھلیش یادونے بنگال اوریوپی میں ووٹرلسٹ سے کروڑوں نام ہٹانے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لئے خطرہ بتایا اور الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پرسوال اٹھایا۔

مغربی بنگال میں ای ڈی کی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی ہنگامہ اب دہلی تک پہنچ گیا ہے۔ دہلی میں وزارت داخلہ کے باہر ٹیم ایم سی کے ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں مہوا موئترا اور ڈیرک اوبرائن سمیت آٹھ ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا اور دھرنا دیا۔ پولیس نے تمام مظاہرین کو عبوری طور پر حراست میں لے کر پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے منتقل کیا۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ ہمارا بھارت ہے۔ ہم حق سے شہری ہیں، کسی کرسی، بیج یا اقتدار کی رحم پر نہیں۔ کوئی بھی حکومت، کوئی بھی پارٹی اور کوئی بھی وزیر داخلہ یہ نہیں فیصلہ کر سکتا کہ جمہوریت میں کون عزت کا حقدار ہ

مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چھاپہ ماری کے بعد سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے ریاست میں ہائی وولٹیج سیاسی ڈرامہ جاری ہے، جس میں ایک طرف مرکزی تفتیشی ایجنسی کی کارروائی ہے تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا سخت ردعمل۔ سیاسی مشاورتی اور الیکشن مینجمنٹ کمپنی آئی پیک اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کے ٹھکانوں پر ای ڈی کی کارروائی نے ریاستی سیاست میں طوفان برپا کر دیا ہے۔

ممتا بنرجی کا نام بھارتی سیاست کی تاریخ میں اس لیے بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے سال 2011 میں مغربی بنگال میں بائیں محاذ کی 34 سالہ حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ 20 مئی 2011 کو انہوں نے مغربی بنگال کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا

امت شاہ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ مغربی بنگال میں حکومت بنائے گی۔ انہوں نے ماضی کے انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے 2014 سے لے کر اب تک ریاست میں مسلسل اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کی ہے،

خبریں تھیں کہ کبیر مرشدآباد میں ہونے والی ممتا بنرجی کی ریلی میں بھی شامل ہونے والے تھے اور انہیں باقاعدہ دعوت بھی دی گئی تھی، مگر بعد میں رپورٹ میں کہا گیا کہ انہیں فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ریاست کے گورنر سی وی آنند بوس نے بھی کبیر کے اعلان کے تناظر میں سکیورٹی خدشات ظاہر کیے تھے۔