Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee

مقدس روایت کے مطابق، مہا لیہ کے دن ماں درگا کو اپنے  کیلاش پروت سے زمین کی جانب روانہ ہوتی ہیں تاکہ دنیا کو برائی کے اثرات سے پاک کریں۔ اس دن کو دیوی پکشا کی شروعات اور پتر پکش (شرادھ) کے اختتام کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ 22.40 لاکھ بنگالی مزدور جو دیگر ریاستوں میں کام کر رہے ہیں، اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

سنیما ہال کے مالک سورنجن پال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں زیادہ تر بنگالی فلمیں دکھائی جاتی ہیں لیکن وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ ہر فلم کو پرائم ٹائم شو میں جگہ دی جائے گی۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اس جابرانہ رویے کے خلاف متحد ہوں۔ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ یہ وقت ہے کہ تمام جمہوری قوتیں بی جے پی کی تفرقہ انگیز اور مطلق العنان پالیسیوں کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہوں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران بی ایس ایف کے جوان پورنم کمار شا کو پاکستان سے رہا کر دیا گیا اور انہیں اٹاری- واگھہ سرحد پر بھارت کے حوالے کیا گیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس معاملے پر اپنا ردِعمل دیا ہے۔

متھن چکرورتی کے بیان ’مغربی بنگال میں ہندو محفوظ نہیں ہیں‘ پر ادت راج نے سوال کیا کہ اگر بنگال میں ہندو محفوظ نہیں ہیں، تو خود متھن چکرورتی، جو وہیں رہ رہے ہیں، کیسے محفوظ ہیں؟ بنگال کے وزیر اعلیٰ سے لے کر پولیس افسران، تاجر اور میڈیا تک، ان میں سے زیادہ تر ہندو ہیں، پھر یہ خوف کس کا ہے؟

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں وقف قانون کے خلاف ہوئے احتجاج کے دوران ہوئے تشدد کے بعد ریاست کی صورتحال کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی اورترنمول کانگریس آمنے سامنے ہیں اوردونوں ایک دوسرے پرالزام تراشی کررہی ہیں۔

بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمارے ریاست میں لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی سیاست نہیں چلے گی۔ یہاں وقف قانون نافذ نہیں کیا جائے گا۔ بنگال میں سبھی لوگ مل جل کررہتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگرآپ کواکساتا ہے تو اس کے بہکاوے میں نہیں آئیں۔ یاد رکھیں کہ دیدی آپ کی ہے اور آپ کی جائیداد کا تحفظ کرے گی۔

 جب مظاہرین نے آواز اٹھانے کی کوشش کی تو وزیر اعلیٰ نے بھی انہیں جواب میں کہا، ’’میری توہین کر کے اپنے ادارے کی توہین مت کرو۔ میں ملک کی نمائندہ بن کر آئی ہوں۔ اپنے ملک کی توہین مت کرو۔‘‘  حالانکہ،بعد میں تقریب کے منتظمین اور وہاں موجود لوگوں نے مظاہرین کے خلاف آواز اٹھائی اور انہیں وہاں سے جانے پر مجبور کیا۔

ترنمول کانگریس کے مسلم اراکین اسمبلی کے خلاف متنازعہ تبصرہ کرنے کے بعد اپوزیشن لیڈر شوبھیندوادھیکاری نے اب ممتا بنرجی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔