Bharat Express DD Free Dish

Mallikarjun Kharge

بہار اسمبلی الیکشن سے متعلق کانگریس اور آرجے ڈی کی اس میٹنگ کے دوران سیٹ شیئرنگ اور وزیر اعلیٰ کے امیدوار سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق، دونوں پارٹیوں کے درمیان وزیراعلیٰ کے امیدوار سے متعلق کافی اختلاف نظر آرہا ہے۔

احمد آباد اجلاس کے دوسرے دن کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’ جب ملک کے لوگ سو رہے تھے تب کئی اہم بل آدھی رات کو ایوان میں لائے گئے‘۔

مہاراشٹر الیکشن پر بات کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ بی جے پی نے 150 سیٹوں پر مقابلہ کیا، 138 سیٹیں جیتیں۔ مہاراشٹر میں جو فراڈ ہوا وہ جمہوریت کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔ ووٹر لسٹ میں جو غلطیاں ہوئی ہیں ان پر ہمارے وکلاء اور لیڈروں نے کام کیا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیرا نے اس بارے میں کہا ہے کہ کانگریس پارٹی انصاف کے راستے پر چلے گی اور عوام کی حمایت حاصل کرے گی۔ جس طرح کانگریس نے آزادی کے لیے سخت محنت کی اسی طرح پارٹی گجرات میں بھی سخت محنت کرے گی۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی بابو جگجیون رام کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا، " بابو جگجیون رام جی کو ان کی یوم پیدائش پر دل کی گہرائیوں سے  خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکرنے کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے پروقف املاک سے متعلق الزام لگایا، جس پراب انہوں نے پلٹ وار کیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ اگرمیرے پاس ایک انچ بھی وقف کی زمین ہے، توثابت کردیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگربی جے پی کے لوگ مجھے ڈرا کر جھکانا چاہتے ہیں، توانہیں یاد دلا دوں کہ میں ٹوٹ جاؤں گا، لیکن کبھی جھکوں گا نہیں۔

وقف ترمیمی بل بدھ کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ کانگریس اس بل کی مخالفت کررہی ہے۔ اس نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ بلائی ہے۔ راہل گاندھی کے ساتھ اراکین پارلیمنٹ کی یہ میٹنگ بدھ کی صبح 9:30 بجے ہوگی۔

مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل 2024 پیش کرسکتی ہے، جس پراپوزیشن کی طرف سے ہنگامہ ہوسکتا ہے۔ کئی اراکین پارلیمنٹ نے جج کے گھرمیں نقد ملنے سے متعلق بھی تحریک التوا کا نوٹس دیا ہے۔

راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نارائن نے مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو کا نام لیا اور ان سے دستاویز ایوان میں رکھنے کو کہا، لیکن مرکزی وزیر ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس پر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی غیر حاضری شرمناک ہے۔

حسین کا 2018 میں راجیہ سبھا میں داخلہ بھی دلچسپ تھا۔ اس سے پہلے، وہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بلاری سٹی سیٹ کے امیدوار تھے، لیکن پارٹی وہاں سے اپنے موجودہ ایم ایل اے انیل لاڈ کو کھڑا کرنا چاہتی تھی۔