Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill: وقف پر قبضہ کرنے والے لوگ ہی کررہے ہیں احتجاج،مسلمانوں کو کررہے ہیں گمراہ،جلد پارلیمنٹ میں پیش ہوگا بل:کرن رجیجو

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں اعلان کیا ہے کہ حکومت موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل پیش کرے گی۔ اس بل کے تحت زمین کے تنازعات کو حل کرنے کا حق صرف عدالتوں کو دیا جائے گا، اس طرح شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور وپارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ اپوزیشن وقف بل کو لے کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے دوران بھی ایسی ہی افواہیں پھیلائی گئی تھیں۔ سی اے اے کی وجہ سے کس نے شہریت کھو دی؟ رجیجو نے کہا کہ ہم وقف بل کو مکمل عمل کے تحت لا رہے ہیں۔وزیر موصوف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جھوٹ پھیلانے والوں کی نشاندہی کریں۔ معاشرے میں تناؤ پیدا کرنے والوں پر نظر رکھیں۔یاد رہے کہ سال 2024 میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وقف (ترمیمی) بل لوک سبھا میں پیش کیاتھا۔ بعد ازاں 8 اگست کو یہ بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیج دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کا مقصد وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ وقف املاک کو ریگولیٹ کرنے اور ان کے انتظام سے متعلق مسائل اور چیلنجوں کو حل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ وقف آزادی سے پہلے موجود تھا اور آزادی سے پہلے بھی اس میں ترمیم کی گئی تھی۔ وقف بل کے خلاف جان بوجھ کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ یہ بل ملک کے لیے اچھا بل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے ایک طبقے نے وقف املاک پر قبضہ کر رکھا ہے اس لیے وہ احتجاج کر رہے ہیں۔ وقف بل میں کوئی غیر آئینی شق نہیں ہے۔ سب کو مل کر اس بل کی حمایت کرنی چاہیے۔

مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر حملہ:اویسی

 اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بل غیر مسلموں کو ممبر بنا کر وقف بورڈ کی انتظامیہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 14، 26 اور 225 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صرف ایک ہی مذہب کے لوگ دوسرے مذاہب کے بورڈ میں ممبر بن سکتے ہیں تو پھر وقف بورڈ میں غیر مسلم کیوں؟

وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ اعلان کیا

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں اعلان کیا ہے کہ حکومت موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل پیش کرے گی۔ اس بل کے تحت زمین کے تنازعات کو حل کرنے کا حق صرف عدالتوں کو دیا جائے گا، اس طرح شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس بل کی ملک بھر کی مسلم تنظیموں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اسے “مسلم عبادت گاہوں اور خیراتی اداروں کے خلاف سازش” قرار دیا ہے۔ حال ہی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کال پر ملک بھر کے مسلمانوں نے رمضان کے آخری جمعہ کو سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیاتھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read