Bharat Express DD Free Dish

Kiren Rijiju

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محنتی صحافی تھیں، جو زمینی حقائق سے مضبوطی سے جڑی ہوئی تھیں اور قومی امور کی گہری سمجھ ان کی صحافت میں واضح طور پر نظر آتی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ پائل مہتا کو ان کے کام کے ساتھ ساتھ ان کے محبت بھرے اور مخلصانہ رویے کے لیے بھی یاد کیا جائے گا،

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے اردو صحافت کانکلیو میں سابق مرکزی وزیرشاہنوازحسین اور سابق رکن پارلیمنٹ اور سینئرصحافی شاہد صدیقی، این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسرڈاکٹر شاہد اختر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے ڈائریکٹر اور گروپ مینیجنگ ایڈیٹر رادھے شیام رائے ، این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال، بھارت ایکسپریس اردو کے ایڈیٹر اور کانکلیو کے کنوینر ڈاکٹرخالد رضا خان اور کوکنوینر ڈاکٹر نثاراحمد خان موجود رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا جمنی تہذیب کی علامت قرار دیا، نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے پر دیا زور

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا، اردو کسی ایک مذہب یا ملک کی زبان نہیں بلکہ خالص ہندوستانی زبان ہے، نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے پر دیا زور

پارلیمانی امور کے وزیر نے کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ جب وزیر داخلہ یا حکومت کی جانب سے بیان دیا جائے تو اپوزیشن ہنگامہ کرکے اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔رِجِجو نے کہا، ’’اپوزیشن سے میری صرف یہی درخواست ہے کہ جب بحث اور جواب دیا جارہا ہو تو وہ وزیر داخلہ کے بیان کو پرسکون انداز میں سنیں اور ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالیں۔‘‘میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے طلبہ تحریک کے معاملے پر اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔

کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’مسٹر کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کی گنجائش آئین کے 106ویں ترمیمی قانون، 2023 کے تحت پہلے ہی موجود ہے، جیسا کہ مسٹر راہل گاندھی نے نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اسے غیر ضروری اور بدنیتی کے ساتھ مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا۔‘‘

خواتین ریزرویشن بل کے معاملے میں کرن ریجیجو اور راہل گاندھی آمنے سامنے ہیں۔ ریجیجو نے کانگریس سے حمایت کی امید ظاہر کی، جبکہ راہل گاندھی نے حلقہ بندی اور قانون کے نفاذ پر سوالات اٹھائے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے لیے ضروری کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کے حقوق اور آزادی کے اس نظریے کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ خواتین کو ان معاملات میں واپس لایا جائے جہاں ان کی موجودگی ضروری ہے اور انہیں اپنی بات کہنے کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔

کرن رجیجو نے یہ بھی واضح کیا کہ چیئرمین نے حکومت کو صرف اپوزیشن کے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کیا تھا، کسی وزیر کو ایوان میں آنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے پارلیمنٹ کے شیڈول سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ تو مانسون اجلاس کی تاریخوں میں تبدیلی کی کوئی تجویز سامنے آئی ہے اور نہ ہی خصوصی اجلاس بلانے کی کوئی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کے بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں پر فی الحال روک لگ گئی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ شیڈول میں کوئی بڑا ردوبدل کرنے جا رہی ہے۔