Bharat Express DD Free Dish

Kiren Rijiju

پارلیمانی امور کے وزیر نے کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ جب وزیر داخلہ یا حکومت کی جانب سے بیان دیا جائے تو اپوزیشن ہنگامہ کرکے اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔رِجِجو نے کہا، ’’اپوزیشن سے میری صرف یہی درخواست ہے کہ جب بحث اور جواب دیا جارہا ہو تو وہ وزیر داخلہ کے بیان کو پرسکون انداز میں سنیں اور ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالیں۔‘‘میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے طلبہ تحریک کے معاملے پر اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا۔

کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’مسٹر کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کی گنجائش آئین کے 106ویں ترمیمی قانون، 2023 کے تحت پہلے ہی موجود ہے، جیسا کہ مسٹر راہل گاندھی نے نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اسے غیر ضروری اور بدنیتی کے ساتھ مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا۔‘‘

خواتین ریزرویشن بل کے معاملے میں کرن ریجیجو اور راہل گاندھی آمنے سامنے ہیں۔ ریجیجو نے کانگریس سے حمایت کی امید ظاہر کی، جبکہ راہل گاندھی نے حلقہ بندی اور قانون کے نفاذ پر سوالات اٹھائے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے لیے ضروری کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کے حقوق اور آزادی کے اس نظریے کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ خواتین کو ان معاملات میں واپس لایا جائے جہاں ان کی موجودگی ضروری ہے اور انہیں اپنی بات کہنے کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔

کرن رجیجو نے یہ بھی واضح کیا کہ چیئرمین نے حکومت کو صرف اپوزیشن کے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کیا تھا، کسی وزیر کو ایوان میں آنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے پارلیمنٹ کے شیڈول سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ تو مانسون اجلاس کی تاریخوں میں تبدیلی کی کوئی تجویز سامنے آئی ہے اور نہ ہی خصوصی اجلاس بلانے کی کوئی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کے بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں پر فی الحال روک لگ گئی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے موجودہ شیڈول میں کوئی بڑا ردوبدل کرنے جا رہی ہے۔

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں جمعرات کے روز شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کارروائی کے دوران اپوزیشن کو ایوان کے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہم معاملات پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔

 پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان مرکزی وزیرکرن رجیجو نے راہل گاندھی اورپرینکا گاندھی سے تقریباً 50 ملاقات کی۔ میٹنگ میں دہلی پولیس کی کارروائی، وزیرداخلہ کے بیان، حد بندی بل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

کرن رجیجو نے مزید کہا کہ غیر پارلیمانی الفاظ سے متعلق قواعد حکومت نے نہیں بنائے بلکہ یہ پارلیمانی ضابطوں کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق، "اگر آپ پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر بات کریں گے تو ہم پوری توجہ سے آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں، لیکن آپ نے بار بار ایسے الفاظ استعمال کیے جن پر اعتراض ہے۔ اس کے باوجود ہم نے آپ کی تقریر میں خلل ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے دسویں، بارہویں اور نیٹ  سمیت مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسلسل بے ضابطگیوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے نیٹ امتحان سے متعلق ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی جان گنوائی، اور متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ دہرایا۔