Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill: امت شاہ نے وقف بل پر کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی طرح کمیٹیاں نہیں بناتے ہیں

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ یہ بل کابینہ کے پاس ہونے کے بعد ہی ایوان میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل پیش کرنے سے پہلے اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجا گیا،

بدھ کے روزلوک سبھا میں مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وقف ترمیمی بل پیش کیا، جس کے بعد اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے ہنگامہ کیا۔ اس دوران کانگریس نے اس بل پر اعتراض کیا اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے وقف ترمیمی بل کو پیش کرنے کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ اس طرح کا بل پیش کرتے وقت کم از کم ارکان کو ترمیم کرنے کا حق ہونا چاہئے۔ حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے وینوگوپال نے کہا کہ آپ زبردستی قانون نافذ کر رہے ہیں اور ایوان میں ترمیم کے لیے کافی وقت دیا جانا چاہیے تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا کہا؟

قابل ذکر بات یہ ہے کہ وقف بل کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ یہ بل کابینہ کے پاس ہونے کے بعد ہی ایوان میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل پیش کرنے سے پہلے اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجا گیا، جہاں سب کی رائے لی گئی۔ امت شاہ نے کہا کہ ہم کانگریس کی طرح کمیٹیاں نہیں بناتے، ہماری کمیٹیاں جمہوری طریقے سے کام کرتی ہیں۔

لوک سبھا میں این ڈی اے مضبوط

این ڈی اے کے اتحادیوں جیسے جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے بھی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کا اتحاد ‘انڈیا’ اس بل کی سخت مخالفت کرنے کے لیے تیار ہے۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے آئین کے خلاف اور اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔  این ڈی اے لوک سبھا میں تعداد کے لحاظ سے مضبوط پوزیشن میں ہے، جس کے 293 ارکان پارلیمنٹ ہیں، جب کہ بل کو منظور کرنے کے لیے 272 ووٹ درکار ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔