Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra Politics

مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) نے مہاراشٹر قانون ساز کونسل عہدہ کے لئے ایم وی اے نے امیدوار اتار دیا ہے۔ مہا وکاس اگھاڑی کی طرف سے جے ایم ابھینکرکو امیدوار بنایا گیا ہے۔ اس عہدے کے لئے الیکشن آئندہ روز بدھ یعنی یکم جولائی کو ہونا ہے۔

 مہاراشٹر حکومت میں وزیر ادے ساونت نے کہا-"ہم ان کا استقبال کریں گے کیونکہ ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جو قیادت ہے، وہ آگے جاکر ان کو طاقت دے سکتا ہے۔ اب ان کو بھی سمجھ میں آیا ہوگا کہ وہیں جانا پڑے گا اور اگر آنے والے ہیں تو ان کا استقبال کریں گے۔"

حالیہ سیاسی پیش رفت کو شیو سینا (ادھو) کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی پہلے ہی اندرونی اختلافات اور ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ حال ہی میں چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، جس کے بعد جماعت میں ممکنہ تقسیم کی خبریں زور پکڑگئی تھیں۔

مہاراشٹر کے مانسون اجلاس سے قبل ’آپریشن ٹائیگر‘ اور ’آپریشن وولف‘ سے متعلق اقتدار اور اپوزیشن آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ روہت پوار نے ایکناتھ شندے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ’شکار کرنے والا خود ہی شکار بن گیا‘۔

ادھو ٹھاکرے گروپ کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے شندے گروپ کا دامن تھام لیا ہے، جن میں سنجے ہری بھاؤ جادھو، بھاؤ صاحب راجارام واکچورے، اوم پرکاش بھوپال سنگھ  نمبالکر، سنجے دینا پاٹل، سنجے اتم راؤ دیشمکھ اور ناگیش باپوراؤ پاٹل اشٹیکر شامل ہیں۔

شیوسینا یوبی ٹی کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ آج الگ گروپ کا باضابطہ اعلان کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، باغی اراکین پارلیمنٹ ایک پریس کانفرنس کریں گے اور اس دوران شیوسینا یوبی ٹی کے الگ ہونے کی وجہ بھی بتائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی خبر ہے کہ باغی اراکین نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے بھی ملاقات کریں گے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) میں مبینہ ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے باعث بڑے پیمانے پر اراکینِ پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ 

شیوسینا ادھو گروپ کے اراکین پارلیمنٹ کی ایکناتھ شندے کے ساتھ جانے کی خبریں تیز ہیں۔ ایسے میں پارٹی کی طرف سے وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ آرڈرمیں کہا گیا ہے کہ پارٹی وہپ ملنے کے باوجود منگل (18 جون) کولوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کی میٹنگ میں موجود نہ رہنے کے لئے ”وجہ بتاو“ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔

 راجیہ سبھا رکن سنجے راوت کا کہنا ہے کہ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہیں شوکازنوٹس بھیجا جائے گا۔ اگر 7 دنوں کے اندر جواب نہیں دیا تو مہنگا پڑے گا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔