Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  سانبہ ضلع کے ایک سرحدی گاؤں کے مقامی باشندوں میں پاکستانی فوج کا خوف بنا ہوا ہے،

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، لہٰذا اب متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے سے کشمیرکی سیاحتی صنعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں کی محنت ایک ہی حملے میں برباد ہوگئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے جان بوجھ کرمسئلہ کشمیرکوبین الاقوامی سطح پراٹھایا ہے، جس سے امن اورترقی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ سیاحت کی صنعت ٹھپ ہوکررہ گئی ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے ایک دن بعد پاکستان نے اتوار کو مطالبہ کیا کہ کشمیر کے ’’تنازعہ‘‘ کو ’’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق‘‘ حل کیا جائے۔

غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، وزارت دفاع نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر پھیلنے والی فرضی خبروں سے محتاط رہیں اور صرف معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔ وزارت نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے آفیشل واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔

دی ہندو کی خبر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد تمام قسم کی فضائی آمدورفت کے لیے اپنی فضائی حدود کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز (10 مئی 2025) پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے یہ اعلان کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے بعد پاکستان میں معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں۔

کوئی بھی معاوضہ کسی پیارے کو کھونے کی بھرپائی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اہل خانہ کے نقصان کا ازالہ کر سکتا ہے۔ لیکن حمایت اور یکجہتی کی علامت کے طور پر تمام مرنے والوں کے لواحقین کو 10-10 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا رقم فراہم کی جائے گی۔

ہندوستانی فوج نے ’آپریشن سندور‘ کے ذریعہ پاکستان سے بڑا بدلہ لیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اورپاکستان کی طرف سے مسلسل حملے کئے جا رہے تھے، جس کے بعد ہندوستان نے جوابی کارروائی میں پاکستان کے کئی ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب، امریکہ اور یوروپی یونین کی کوششوں سے دونوں ممالک سے جنگ روکنے کی اپیل کی تھی۔

جب انہوں نے اپنی بہن کو ٹی وی پر ملک کے سامنے بولتے ہوئے دیکھا تو وہ لمحہ انتہائی جذباتی تھا۔ یہ نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک فخریہ لمحہ تھا۔ ساتھ ہی شائنہ نے ’آپریشن سندور‘ کے لیے ہندوستانی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی کافی تعریف کی۔

اعلیٰ افسران نے کہا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر اور حقائق پر مبنی جواب دیا جائے گا۔ یہ پریس کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔