Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

بھارتی فوج کے آپریشن سندور نے پاکستان میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانے تباہ کر دیئے۔ پاکستانی شہری سوشل میڈیا پر تصدیق کر رہے ہیں کہ بھارتی میزائل نے اپنے اہداف کو درست نشانہ بنایا اور پاکستانی دفاعی نظام ناکام ہو گیا۔ لیکن پاکستان اپنی ناکامی ماننے کو تیار نہیں اور جھوٹ کے بعد جھوٹ بول رہا ہے۔

’آپریشن سندور‘ کے بعد پاکستان کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ملک کی ایئر ڈیفنس یونٹس فعال رکھی گئی ہے اور جموں کشمیر و دیگر شہروں میں اسکول آج بھی بند ہیں

ہندوستان  کے آپریشن سندور پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک نے واقعہ کو ایک درست اور تحمل سے بھرپور قدم قرار دیا اور اس کی تعریف کی۔ ہندوستان  نے واضح کیا کہ یہ حملے کسی پاکستانی شہری، فوجی یا اقتصادی اسٹیبلشمنٹ پر نہیں تھے۔ صرف جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ آپریشن سندورکے بعد جموں وکشمیرمیں ایمرجنسی میٹنگ بلائی ہے۔ ممکنہ طورپریہ میٹنگ پاکستان سے متصل علاقوں میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بلائی گئی ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کشمیر کے اپنے دورے کے دوران پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اورپاکستان کوسخت جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایسی کارروائی کرنی چاہئے، جس سے پاکستان 100 بار سوچے۔ پاکستانی فوج رشتے خراب کررہی ہے اورماحول خراب کررہی ہے۔

جموں و کشمیر میں پہلے ہی تقریباً 75 میگاواٹ چھت پر نصب شمسی بجلی پلانٹس کی تنصیب ہو چکی ہے۔ یہ عمل حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا اسکیم کی بدولت تیز ہوا ہے۔ ریاست بھر میں 8,000 گھریلو صارفین پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں میں بڑی شمسی منصوبے لگانا اب بھی مشکل ہے کیونکہ 100 میگاواٹ کے شمسی پارک کے لیے 500 ایکڑ زمین کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں دستیاب نہیں۔

حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا: "اگر حکومت واقعی ملک میں امن و امان چاہتی ہے تو اسے نفرت انگیز پالیسیوں سے باز آنا ہوگا۔ ہندو مسلم کے درمیان نفرت پھیلانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔"

خشکی سے بند وادی کے لیے فوجی اور تمام شہری سامان اس شاہراہ سے گزرتا ہے۔ اس اسٹریٹجک ہائی وے کی عارضی بندش سے وادی میں ضروری اشیاء بشمول پٹرولیم مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی فوجی تیاری انتہائی کمزور حالت میں ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پاکستان کے پاس صرف تین چار دن لڑنے کے لیے گولہ بارود ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلگام بہیمانہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ کشمیری طلبہ، ریہڑی والوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہمارے ملک کے اس بڑے مسئلے کا حصہ ہے جس میں حساس سلامتی کے معاملات کو اوچھی سیاست ، اسلامو فوبیا اور معاشرتی تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے