Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے چہروں کے رنگ اور آنکھوں کی زبان سے صاف ظاہر تھا کہ بھارت کی جوابی کارروائی نے انہیں چوکنا اور پریشان کر دیا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ جب ہمیں پاکستان کے لیے نوٹس ملا تو ہم چونک گئے۔ یہی نہیں، ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اٹاری بارڈر پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ ہم ملک چھوڑ دیں، جبکہ ہم ہندوستانی ہیں۔

جموں وکشمیرکے باندی پورہ میں پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران تین لوگوں کو گرفتارکیا ہے۔ ان کے پاس سے ہتھیاراور گولی بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی باندی پورہ سے لشکرطیبہ سے منسلک  دہشت گردوں کے چار مددگاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ کوئی کشمیری حملہ نہیں چاہتا ہے۔ 21 سال بعد میں نے ایسے حملے دیکھے ہیں۔ معافی مانگنے کے لئے ہمارے پاس لفظ نہیں ہے۔

جموں وکشمیرکے کانگریس لیڈرغلام احمد میرنے دہشت گردانہ حملے سے متعلق کہا کہ صورتحال اورحادثہ کی سنجیدگی نے ہم سبھی کو جھنکجھورکررکھ دیا ہے۔ یہ صرف ایک طبقے کی بات نہیں ہے۔ ابھی کوئی بھی قدم مناسب نہیں ہوگا۔ یہ حادثات کئی بارہوچکے ہیں اوراب ملک اس کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانا چاہتا ہے۔ ابھی بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

پولیس نے بتایا کہ چھاپہ ہتھیاروں، دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی کے لیے کیا گیا۔ اس کا مقصد ملک کے خلاف کسی بھی سازش یا دہشت گردانہ سرگرمی کا پتہ لگانا اور اسے روکنا ہے۔

پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نےگلمرگ میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ کی تقریب منائی تھی، جس میں کئی سیاستدانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کے لیے انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس، پہلگام میں سیاحوں کے تحفظ کے لیے اتنے ٹھوس انتظامات نظر نہیں آئے، جس نے عوامی سطح پر سیکورٹی کی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیے۔

 ٹورسٹ پونی اسٹینڈ کے چیئرمین رئیس احمد بھٹ نے کہا کہ ہم نے ان لوگوں کو بچایا جودہشت گردانہ حملے کے وقت خوفزدہ تھے۔ یہاں کی پوری آبادی بہت پریشان ہے۔

اس کے ساتھ ہی فوج دہشت گردوں کی تلاش میں کشمیر کے ایک ایک انچ کی تلاشی لے رہی ہے۔ اسی تسلسل میں فوج نے جمعہ سے اب تک دہشت گردوں کے چھ مکانات کو تباہ  و برباد کردیا ہے۔

نندن وردھمان کی تصویر لے کر مشتعل کرنے کی کوشش کی، اس نے وہ  تصویر ب ہاتھ میں پکڑی ہوئی  تھی، جس پر لکھا تھا ’’چائے لاجواب ہے۔‘‘ یہ حرکت ہندوستانیوں کو مشتعل کرنے اور ان کی توہین کرنے کی کوشش تھی۔