Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کشمیر کے اپنے دورے کے دوران پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اورپاکستان کوسخت جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایسی کارروائی کرنی چاہئے، جس سے پاکستان 100 بار سوچے۔ پاکستانی فوج رشتے خراب کررہی ہے اورماحول خراب کررہی ہے۔

جموں و کشمیر میں پہلے ہی تقریباً 75 میگاواٹ چھت پر نصب شمسی بجلی پلانٹس کی تنصیب ہو چکی ہے۔ یہ عمل حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا اسکیم کی بدولت تیز ہوا ہے۔ ریاست بھر میں 8,000 گھریلو صارفین پہلے ہی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں میں بڑی شمسی منصوبے لگانا اب بھی مشکل ہے کیونکہ 100 میگاواٹ کے شمسی پارک کے لیے 500 ایکڑ زمین کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہاں دستیاب نہیں۔

حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا: "اگر حکومت واقعی ملک میں امن و امان چاہتی ہے تو اسے نفرت انگیز پالیسیوں سے باز آنا ہوگا۔ ہندو مسلم کے درمیان نفرت پھیلانا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔"

خشکی سے بند وادی کے لیے فوجی اور تمام شہری سامان اس شاہراہ سے گزرتا ہے۔ اس اسٹریٹجک ہائی وے کی عارضی بندش سے وادی میں ضروری اشیاء بشمول پٹرولیم مصنوعات، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی فوجی تیاری انتہائی کمزور حالت میں ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو جائے تو پاکستان کے پاس صرف تین چار دن لڑنے کے لیے گولہ بارود ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلگام بہیمانہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ کشمیری طلبہ، ریہڑی والوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہمارے ملک کے اس بڑے مسئلے کا حصہ ہے جس میں حساس سلامتی کے معاملات کو اوچھی سیاست ، اسلامو فوبیا اور معاشرتی تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے چہروں کے رنگ اور آنکھوں کی زبان سے صاف ظاہر تھا کہ بھارت کی جوابی کارروائی نے انہیں چوکنا اور پریشان کر دیا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ جب ہمیں پاکستان کے لیے نوٹس ملا تو ہم چونک گئے۔ یہی نہیں، ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اٹاری بارڈر پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ ہم ملک چھوڑ دیں، جبکہ ہم ہندوستانی ہیں۔

جموں وکشمیرکے باندی پورہ میں پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران تین لوگوں کو گرفتارکیا ہے۔ ان کے پاس سے ہتھیاراور گولی بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی باندی پورہ سے لشکرطیبہ سے منسلک  دہشت گردوں کے چار مددگاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ کوئی کشمیری حملہ نہیں چاہتا ہے۔ 21 سال بعد میں نے ایسے حملے دیکھے ہیں۔ معافی مانگنے کے لئے ہمارے پاس لفظ نہیں ہے۔