Bharat Express DD Free Dish

Jammu and Kashmir

پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد ٹی وی اداکارشعیب ابراہیم اوردیپیکا ککڑنے ایک پوسٹ شیئرکیا ہے، جس میں انہوں نے فینس کواپنی اپڈیٹ شیئرکی اورکہا کہ وہ کشمیرسے نکل چکے ہیں۔

سیکورٹی فورسز کی ٹیم ابھی بھی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ یہ سیاح راجستھان سے آئے تھے۔ یہ ایک سیاحتی علاقہ ہے اور گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے والی ہیں، اس لیے لوگ آہستہ آہستہ اس علاقے کی سیر کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

جموں وکشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں کے ذریعہ سیاحوں پرکئے گئے بزدلانہ حملے سے پورے ملک میں غم وغصہ ہے۔ وہیں، کانگریس نے مرکزی حکومت سے فوراً کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے لیڈران کا کہنا ہے کہ حکومت کو سبھی سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔

محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ محکموں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق اپنے پروگراموں کی منصوبہ بندی کریں اور انتظامیہ یا محکمہ ٹریفک کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ کسانوں کو خاص طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی زرعی کام 21 اپریل تک ملتوی کر دیں، تاکہ موسم سے متعلق خطرات سے بچا جا سکے۔

سانیال گاؤں بین الاقوامی سرحد سے صرف 4 کلومیٹر دور ہے، اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دہشت گرد حال ہی میں سرحد پار کر کے ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئے ہوں گے۔ سانیال گاؤں سے بھاگتے ہوئے دہشت گرد صفیون جاکھول کے علاقے کی طرف چلے گئے۔ پولیس نے دہشت گردوں کا پیچھا کیا اور تصادم میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن اس تصادم میں چار پولیس اہلکار بھی شہید ہو گئے۔

فوج کشتواڑ کے چھترو جنگل میں 9 اپریل سے تلاشی آپریشن کر رہی تھی۔ جمعرات کو بھی سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہوا۔ جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا کہ جموں و کشمیر ماس موومنٹ نے خود کو علیحدگی پسند گروپ آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) سے الگ کر لیا ہے۔

سنٹرل یونیورسٹی آف جموں کے اس ہمالیائی ہائی ایلٹیٹیوڈ ایٹموسفیرک اینڈ کلائمیٹ ریسرچ سینٹر کا مقصد ہمالیائی خطے میں ماحول اور آب و ہوا کے مظاہر کا مطالعہ کرنا ہے۔

مہراج ملک نے پی ڈی پی رکن اسمبلی وحید پرا سے بحث کے دوران کہا کہ تم نے قوم کے ساتھ غداری کی ہے۔ اسی دوران بی جے پی کے لیڈرسے بھی ان کی بحث ہوئی۔

تحریک عدم اعتماد پر راتھر نے کہا کہ اگر کسی نے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے، ہم اس کی تحقیقات کریں گے اور ایوان جو بھی فیصلہ کرے گا ہم اس کا احترام کریں گے۔ راتھر نے یہ بھی کہا کہ ان کا کام غیر جانبداری اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرنا ہے۔