Israel-Hamas war: ہرپانچ میں سے ایک فلسطینی کو اسرائیل بناتا ہے قیدی،20-20 سالوں تک رکھتا ہے بند
اس وقت اسرائیل کے اندر 19 جیلیں ہیں، جہاں فلسطینیوں کو رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے میں بھی ایک جیل ہے۔ چوتھے جنیوا کنونشن کے مطابق انتظامی علاقوں سے لوگوں کو اغوا کر کے وہاں رکھنا غلط ہے لیکن اسرائیل مبینہ طور پر اسے نظر انداز کر رہا ہے اور مغربی کنارے یا غزہ کی پٹی سے لوگوں کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔
Israel-Hamas war: جنگ بندی میں توسیع کی کوششوں کے بیچ غزہ پٹی پہنچے نیتن یاہو، کہا:آخری دم تک جاری رہےگی جنگ، اسرائیل کو کوئی نہیں روک سکتا
پی ایم نیتن یاہو نے کہا کہ ہم فتح حاصل کرنے تک لڑائی کو جاری رکھیں گے۔ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاس جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے کی طاقت، قوت، ارادہ اور عزم ہے اور ہم ایسا کریں گے۔وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے دریافت کی گئی حماس کی سرنگوں میں سے ایک کا دورہ کیا۔
8 Palestinians killed in West Bank amid Gaza truce: غزہ میں خاموشی لیکن مغربی کنارے میں گولہ باری،اسرائیلی فوجیوں نے مزید 8 فلسطینیوں کو کیا شہید
اسرائیل حماس کے بیچ ایک طرف جنگ بندی کا تیسرا دن ہے اور قیدیوں کے تبادلے کا عمل جاری ہے وہیں دوسری طرف اسرائیل اپنے فلسطینیوں کو شہید کرنے کا سلسلہ بھی ترک کرتا نظرنہیں آرہا ہے ۔ غزہ میں ضرور خاموشی ہے لیکن مغربی کنارے میں حملے تیز ہوگئے ہیں اور سیدھے طور پر فلسطینیوں کو وہاں اسرائیلی فوج نشانہ بنا رہی ہے۔
Hamas releases first Gaza captives amid truce: غزہ میں عارضی جنگ بندی کا پہلا دن کامیاب،دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کا آغاز
غزہ اسرائیل جنگ میں عارضی جنگ بندی کا پہلا دن کامیاب رہا ،چونکہ ناہی حملے ہوئے اور ناہی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق وعدہ خلافی،بلکہ دونوں فریق نے معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے پہلے اقدام کو پورا کردیا ہے اور دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی کا پہلا گروپ دونوں فریق کے حوالے کردیا گیا ہے۔
Ceasefire to begin Friday 7am: غزہ میں جنگ بندی جمعہ کی صبح سات بجے سے ہوگی شروع، اسرائیل نے حماس کی تمام شرطوں کو کیا قبول
جنگ بندی، جو ابتدائی طور پر چار دن تک جاری رہے گی، کا اعلان کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد بدھ کے اوائل میں کیا گیا تھا اور اس سے تشدد میں مزید پائیدار توقف کی امید پیدا ہوئی ہے۔معاہدے کے تحت حماس 240 سے زیادہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سے کم از کم 50 کو رہا کرے گی ۔
No Gaza captives will be released before Friday: غزہ جنگ بندی کیوں ملتوی ہوئی؟ مکمل تفصیلات سامنے آگئیں
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ جنگ بندی صبح 10 بجے شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے توقع ظاہر کی تھی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جھڑپوں میں وقفے کے آغاز کا اعلان 24 گھنٹوں میں کر دیا جائے گا۔
Young Americans are picking up the Qur’an: امریکہ کی نوجوان نسل فلسطینیوں کے جذبہ ایمانی کو سمجھنے کیلئے قرآن پاک کا کررہی ہے مطالعہ
امریکہ کی نوجوان نسل فلسطینیوں کے جذبہ ایمانی اور قوت استقامت کو سمجھنے کیلئے قرآن مقدس کا مطالعہ تیز کردیا ہے ۔ ان سے میں سے بہت سے نوجوان گزشتہ چند سالوں میں دائرے اسلام میں داخل ہوچکے ہیں ۔ البتہ حماس اسرائیل جنگ کی وجہ سے ایک بار پھر نوجوان امریکہ قرآن پاک کے مطالعے کی طرف تیزی سے بڑھنے لگی ہے۔
This is not war,This is terrorism: Pope Francis: اسرائیل-حماس جنگ اب جنگ نہیں ہے،بلکہ دہشت گردی میں تبدیل ہوچکی ہے:پوپ فرانسس
پوپ نے کہا کہ انہوں نے براہ راست سنا ہے کہ تنازعہ میں "دونوں فریق کس طرح کا شکار ہیں۔جنگیں یہی کرتی ہیں۔ لیکن یہاں ہم جنگوں سے آگے نکل چکے ہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی ہے۔انہوں نے لوگوں کو دعاؤں کے لیے کہا تاکہ دونوں فریق "جذباتی اندازمیں مزید آگے نہ بڑھیں، جس کا نتیجہ ہلاکت اور موت ہے۔
Israel-Gaza War: اسرائیل نے حماس کے ساتھ قیدیوں کےتبادلے کی منظوری دے دی، جمعرات تک ہوگا معاہدہ پر عمل
امریکی میڈیا نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ تبادلے کا معاہدہ 4 روزہ جنگ بندی کے دوران دو مراحل میں ہوگا۔ معاہدے کے تحت حماس اپنے پہلے مرحلے میں تقریباً 50 اسرائیلی خواتین اوربچوں کو رہا کرے گا، جس کے بدلے میں اسرائیل تقریباً 150فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، ان میں زیادہ ترخواتین اور نابالغ ہیں۔
Hamas captive release deal: جنگ بندی کا اعلان،53 یرغمالیوں کے بدلے 150 فلسطینیوں کو رہا کرے گا اسرائیل،پڑھیں پوری تفصیلات
جنگ بندی اور رہائی کے سلسلے میں ایک اور نئی جانکاری یہ ملی ہے کہ اسرائیل نے اپنے تمام ڈائریکٹر جنرل کو اس معاہدے سے متعلق جانکاری دے دی گئی ہے اور بہت جلد یہ تما م ڈائریکٹرز ایک میٹنگ کرنے جارہے ہیں جس میں یہ طے ہوگا کہ کہ شہریوں کو کیسے محفوظ طریقے سے نکالا اور بھیجا جاسکتا ہے ۔





