Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

اسرائیلی فوج کی طرف سے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر غیر معمولی فضائی حملوں کے چند دن بعد، ایران کے جوڈیشری چیف غلام حسین محسنی ایجی نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبہ میں گرفتار افراد کے مقدمات کی سماعت کو تیز کیا جائے گا۔

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔

قطر میں موجود العبید امریکی ایئربیس پر ایران نے کل چھ میزائلیں داغی ہیں، جن کو فضا میں ہی مار گرایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران میں اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، جس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات دونوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

ایران ایک بارپھرسرخیوں میں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ 10 دنوں زیادہ سے جنگ جاری ہے۔ اب اس جنگ میں امریکہ بھی کود پڑا ہے۔ اس نے ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں پرحملہ کردیا ہے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صنعتی گھرانے کا ہیڈ کوارٹرکئی سال تک ایران کے دارالحکومت تہران میں رہا۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔

حکومت کے فیکٹ چیک یونٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے دوران امریکہ نے ہندوستانی فضائی حدود کا استعمال ایران کے خلاف طیارہ بھیجنے کے لئے کیا تھا۔

فاروق عبداللہ کا یہ بیان عالمی سیاست میں مسلم ممالک کے اتحاد اور فعالیت کے فقدان کو واضح کرتا ہے۔ عبداللہ کا ماننا ہے کہ اگر مسلم ممالک اس بحران میں اکٹھے نہیں ہوئے تو انہیں مستقبل میں ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسلامی انقلابی گارڈ کاپرس (آئی آرجی سی) کے ترجمان ابراہیم زول فاغری نے کہا کہ امریکہ براہ راست جنگ میں داخل ہوا ہے اور ایران کی "مقدس سرزمین" کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے جنگ شروع کی، ہم اسے ختم کریں گے۔

اسرائیل اورایران کے درمیان جاری جنگ میں امریکہ کے داخلے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ہفتے کی رات امریکہ نے ایران کے تین جوہری ٹھکانوں پرحملہ کیا۔ دوسری جانب، ایران کی درخواست پرپاکستان، چین اورروس کی حمایت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔