Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سیاسی و مذہبی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے، مختلف لیڈروں کے بیانات سامنے آگئے ہیں۔ جانئے بھارت میں کس نے کیا کہا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے فوجی آپریشن کا مقصد ایران کو آزاد کرانا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہاں کی فوج اپنے ہتھیار ڈال دے، انہیں معافی مل جائے گی، ورنہ اس حکومت پر موت برسے گی۔‘

اسرائیل نے ہفتہ کی صبح ایران پر اچانک پری ایمپٹو اسٹرائیک کرتے ہوئے پہلا حملہ کر دیا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اچانک انتہائی نازک اور خطرناک ہوگئی ہے۔ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے شدید جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیل میں چو طرفہ  دہشت کا ماحول ہے اور سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ اس درمیان ٹرمپ نے ایرانی عوام سے بغاوت کی اپیل کردی۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف چار روزہ فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اور دن کے وقت کیے گئے حملوں میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل حملے شروع کر دیے، جس سے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ان میزائلوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہوا میں اپنا رخ بدل سکتی ہیں اور نیچی پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے پکڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ح

ایران نے جوابی کارروائیوں میں اسرائیل پر تقریباً 20 میزائل داغے، جن میں سے کچھ نے اسرائیل میں تباہی مچائی اور وہاں بھی ہلاکتوں کی بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی ،لیکن اسرائیل اپنے نقصانات کو چھپانے میں مشہور ہے،اس لئے حتمی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔