Bharat Express DD Free Dish

Iran-Israel War: ایران کا اسرائیل کو بھرپور جواب، 400 میزائل داغے، اسرائیلی شہر دھوئیں اور دھماکوں سے گونج اٹھے

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف چار روزہ فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اور دن کے وقت کیے گئے حملوں میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل حملے شروع کر دیے، جس سے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

نئی دہلی :مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے شدید جنگی شکل اختیار کر لی ہے، جہاں ایران نے اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں کے جواب میں بڑا جوابی اقدام کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب تقریباً 400 میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حملوں کے بعد کئی اسرائیلی شہروں کے آسمان دھوئیں اور دھماکوں سے گونج اٹھے، جبکہ فضائی دفاعی نظام مسلسل میزائل روکنے میں مصروف رہا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف چار روزہ فوجی حکمت عملی تیار کی تھی اور دن کے وقت کیے گئے حملوں میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر میزائل حملے شروع کر دیے، جس سے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی صدر Donald Trump نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ امریکی فوج نے ایران میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد امریکی شہریوں، بیرونِ ملک فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک کو ایران سے لاحق خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان تیزی سے بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اسرائیل میں قائم بھارتی سفارت خانے نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے وہاں موجود بھارتی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق حالیہ میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع علاقائی تنازع کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ بحران عالمی سطح پر سلامتی اور توانائی کی صورتحال کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read