Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

پیزشکیان نے کہا کہ ہم ان کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہیں۔ ہم کوئی پارٹی نہیں جو بھاگ جائیں گے۔ ہم اس طرح کی نگرانی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے امریکہ نے ہمارے ایٹمی مراکز اور تنصیبات پر حملہ کیا۔ ان جوہری مراکز کے کئی آلات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

دنیا میں جنگ کی موجودہ صورتحال پر گڈکری نے ہندوستان کو بدھ کی سرزمین بتاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سچائی، عدم تشدد اور امن کا پیامبر رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بھارت عالمی فورمز پر امن اور ہم آہنگی کی کوششوں کی قیادت کرے۔

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

ایران پر اسرائیل کے حملوں کو فرانس نے غلط بتایا ہے۔ صدر ایمینوئل میکرون نے ایرانی ہم منصبے پیزشکیان سے بات چیت میں کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام میں مداخلت کا اسرائیل کو کوئی حق نہیں ہے۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلیئرسہولیات پر حملے کے دعووں کوغلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کواس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اورایران جنگی پروگرام کو جاری رکھے گا۔

ایران کے تین بڑے نیوکلیئرٹھکانوں پرامریکی بمباری کے بعد، ڈونالڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہوسے کہا کہ یہ جنگ بند کرنے اورسفارتی مذاکرات میں واپس آنے کا وقت ہے۔

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اب حملے نہیں کرے گا۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ سیزفائرہو۔

ایکسیوس کے مطابق، ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی نے ایران کو سمجھوتہ کے لیے بلایا توایران نے اپنی شرائط پیش کیں۔ ایران کا کہنا تھا کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہیں، جب اسرائیل حملہ روکے۔ امریکہ نے قطرکی سفارش پرجنگ بندی شروع کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے اعلان کو اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ، جسے انہوں نے "12 روزہ جنگ" کا نام دیا، مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی۔ انہوں نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی ثالثی کی بھی تعریف کی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران کے "ظالم" اس کی "پوری قیمت" ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔