ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ 22 جون کو امریکی فضائی حملوں سے اس کی تینوں جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک تباہی کا اندازہ نہیں لگا سکا ہے۔پیزشکیان نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والے ان جوہری مقامات تک ہماری رسائی نہیں ہے۔ ہمیں ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کے ساتھ تعاون پر نظرثانی کے لیے تیار ہے لیکن ہم ابھی تک ان تباہ شدہ جوہری مقامات کا مکمل معائنہ نہیں کر سکیں ہیں۔
پیزشکیان نے کہا کہ ہم ان کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہیں۔ ہم کوئی پارٹی نہیں جو بھاگ جائیں گے۔ ہم اس طرح کی نگرانی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے امریکہ نے ہمارے ایٹمی مراکز اور تنصیبات پر حملہ کیا۔ ان جوہری مراکز کے کئی آلات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔یاد رہے کہ امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات فردو، نطنز اور اصفہان میں کامیابی سے حملہ کیا تھا۔ بموں کا پورا پے لوڈ فردو پر گرا دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ فردو پلانٹ کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے صدر نے اسرائیل پر جون کے حملوں کے دوران انہیں قتل کرنے کی کوشش کا الزام بھی لگایا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے کوشش کی، ہاں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا، لیکن وہ ناکام رہے۔یہ امریکہ نہیں تھا جو میری جان پر حملہ کرنے کی کوشش کے پیچھے تھا، یہ اسرائیل تھا۔ میں ایک میٹنگ میں تھا … انہوں نے اس علاقے پر بمباری کرنے کی کوشش کی جس میں ہم یہ میٹنگ کر رہے تھے۔16 جون کو، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے منصوبے کو مسترد نہیں کیا، اور کہا کہ اس سے “تنازعہ ختم” ہو جائے گا۔ بعد میں یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو ویٹو کر دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

