Iran’s president about Israel’s plan: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اور مجھے اسرائیل نے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی،لیکن ناکام ثابت ہوئے:ایرانی صدر
پیزشکیان نے کہا کہ ہم ان کے بارے میں بات کرنے کو تیار ہیں۔ ہم کوئی پارٹی نہیں جو بھاگ جائیں گے۔ ہم اس طرح کی نگرانی کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے امریکہ نے ہمارے ایٹمی مراکز اور تنصیبات پر حملہ کیا۔ ان جوہری مراکز کے کئی آلات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
“US bombing violates international law”: بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے امریکی بمباری: ایرانی جوہری ایجنسی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ ایران کو اس تنازعے کو ختم کرنے پر اتفاق کرنا چاہیے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔
Iran’s nuclear base Fordo Plant: پہاڑوں کے 300 فٹ نیچے ایران کا ناقابلِ تسخیر نیوکلیئر اڈہ، اسرائیلی بم کچھ نہ بگاڑ سکے، صرف امریکہ ہی اسے کر سکتا ہے تباہ
یہ صورت حال نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے اتحادی اسرائیل کے لیے بھی ایک انتہائی پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ فردو پلانٹ، اس وقت مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹیکل جنگ کا مرکز بن چکا ہے، جس کا ہر ایک قدم پوری دنیا پر اثر ڈال سکتا ہے۔





