مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل اور ایران کی عسکری طاقت کا موازنہ عالمی سطح پر ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں اثر و رسوخ، دفاعی صلاحیت اور جنگی تیاری کے اعتبار سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، تاہم ان کی فوجی حکمت عملی اور طاقت کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔کچھ عسکری ماہرین کے مطابق اسرائیل جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور دفاعی نظام کے لحاظ سے دنیا کی طاقتور افواج میں شمار ہوتا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے پاس جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے، جدید نگرانی نظام اور مؤثر میزائل دفاعی ڈھانچہ موجود ہے۔ آئرن ڈوم، ایرو اور ڈیوڈ سلنگ جیسے دفاعی نظام دشمن کے راکٹ اور میزائل حملوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو امریکہ کی عسکری، مالی اور تکنیکی حمایت بھی حاصل ہے، جو اس کی دفاعی طاقت میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
ایران کی عسکری طاقت
دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایرانی فوجیوں کی تعداد، میزائل پروگرام اور خطے میں اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے باعث ایک بڑی عسکری قوت کے طور پر ابھر کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ایرانی ساختہ ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس اور اس کے علاقائی اتحادی گروپس بھی اس کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
ایران سخت مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں بنا رہے گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روایتی جنگ یا محدود فضائی تصادم کی صورتحال پیدا ہو تو اسرائیل اپنی جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس برتری کے باوجود ایران کے خلاف جنگ چھیڑ کر اسرائیل اپنے جال میں خود پھنس سکتا ہے ۔ تاہم طویل المدتی جنگ یا وسیع میزائل حملوں کی صورت میں ایران اپنی جغرافیائی وسعت، افرادی قوت اور میزائل صلاحیت کے ذریعے سخت مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں بنا رہےگا۔
ایران –اسرائیل جنگ عالمی امن کے لیے انتہائی حساس معاملہ
عالمی دفاعی تجزیوں کے مطابق مجموعی طور پر جدید عسکری معیار، دفاعی نظام اور جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے اسرائیل کو برتری حاصل ہے، جبکہ ایران تعداد، میزائل طاقت اور علاقائی اثر کے باعث ایک مضبوط اور خطرناک حریف تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ کو خطے ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی انتہائی حساس معاملہ قرار دیا جاتا ہے۔حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے معاہدے کی مخالفت کی جو صرف ایران کے جوہری پروگرام پر توجہ دیتا ہو۔ایران نے کہا کہ وہ اپنی بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی یا خطے میں حامی گروہوں جیسے غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق میں ملیشیا اور یمن میں حوثیوں کے خاتمے پر بات نہیں کرے گا، کیونکہ یہ اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

